سرّالخلافة — Page 147
روحانی خزائن جلد ۸ ۱۴۷ نور الحق الحصة الأولى المقابلة وولوا الدبر كالمغلوبين۔ ولما عجزوا عن النضال في اور مغلوب ہو کر بیٹھیں پھیر لیں اور جب خوش تقریری کی لڑائیوں سے عاجز آ گئے البيان، مالوا إلى السيف والسنان، متندمين مغتاظين و كثير منهم | تو شرمندہ اور غضبناک ہو کر تلوار اور نیزہ کی طرف جھک گئے اور بہت سے ان میں سے أسلموا نظرًا على هذه المعجزة كلبيد بن ربيعة العامري، صاحب اعجاز بلاغت قرآن کو تسلیم کر کے ایمان لائے جیسا کہ لبید بن ربیعة العامری جو معلقہ رابعہ کا مصنف المعلقة الرابعة، فإنه أدرك الإسلام وتشرف به وأرى الإخلاص ۔ ہے اس نے اسلام کا زمانہ پایا اور مشرف باسلام ہوا اور پورا اخلاص دکھایا اور التام، ومات سنة إحدى وأربعين۔ وكذلك كثير منهم أقروا بأنّ سن اکتالیس میں فوت ہوا۔ اور اسی طرح بہتوں نے ان میں سے قرآن شریف کی بلاغت القرآن مملو من العبارات المهذبة، والاستعارات المستعذبة، فصاحت کو قبول کر لیا اور اقرار کر لیا کہ در حقیقت قرآن عبارات پاکیزہ سے پُر اور شیریں استعارات سے مالا مال والأفانين المستملحة، والمضامين الحكمية الموشحة، بل من أمعن اور ملیح تقریروں اور آراستہ اور حکمیہ مضمونوں سے بھرا ہوا ہے بلکہ جس نے اس میں نظر غور کی منهم النظر فسعى إلى الإسلام وحضر ودخل في المؤمنين۔ فلو كان سو وہ اسلام کی طرف دوڑا اور ایمان والوں میں داخل ہوا۔ پس اگر قرآن القرآن متنزلا من أعلى مدارج الكمال في فصاحة المقال وبلاغة فصاحت اور بلاغت کے اعلیٰ مدارج منزل ہوتا تو مخالفوں پر بات الأقوال، لكان الأمر أسهل على المخالفين، ولقالوا أيها الرجل إن الكلام بہت آسان ہو جاتی۔ اور وہ کہہ سکتے تھے کہ اے مرد جو کلام تو نے پیش کی ہے الذي عرضت علينا والحديث الذي أتيته لدينا ليس بفصيح بل ليس | سے اور جو بات تو لایا ہے وہ فصیح نہیں ہے بلکہ