سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 101 of 512

سرّالخلافة — Page 101

روحانی خزائن جلد ۸ ۱۰۱ نور الحق الحصة الأولى وأنا أسمع، فهل في الدار غيرى، وقال بعضهم أنا الحق؛ فهؤلاء كلهم منہ کیا اور میں ہی جنب اللہ ہوں جس کے حق میں تم نے تقصیر کی اور بعض نے کہا کہ میں ہی کہتا ہوں اور میں ہی سنتا ہوں معقوون، فإنهم نطقوا من غلبة كمال المحوية والانكسار، لا من اور میرے سوا اور گھر میں کون ہے اور بعض نے کہا کہ میں ہی حق ہوں سو یہ تمام لوگ مرفوع القلم ہیں کیونکہ وہ کمال محویت الرعونة والاستكبار ، وحفّتُ بهم سُكُرُ صهباء العشق وجذبات الحب سے بولے ہیں نہ رعونت اور تکبر سے اور شراب عشق کے نشہ اور دوست برگزیدہ کے جذبات نے ان کو گھیر لیا سو یہ آوازیں المختار، فخرجت هذه الأصوات من خوخة الفناء لا من غرفة الخيلاء ﴿٦﴾ فنا کی کھڑکی سے نکلیں نہ تکبر کے بالا خانہ سے اور دون اللہ کی طرف انہوں نے قدم نہیں اٹھایا وما نقلوا الأقدام إلى دون الله بل فنوا في حضرة الكبرياء ، فلا شك سے بلکہ حضرت کبریا میں فنا ہو گئے سو کچھ شک نہیں کہ ان پر ان کلمات أنهم غير ملومين۔ ولا يجوز اتباع كلماتهم وحرص مضاهاتهم، بل هي کوئی ملامت نہیں۔ اور ان کے ان کلمات کی پیروی جائز نہیں اور نہ یہ روا ہے کہ ان کی مشابہت کی كلم يجب أن تُطوى لا أن تُروى، ولا يؤاخذ الله إلا الذين كانوا من خواہش کی جائے بلکہ یہ ایسے کلمے ہیں کہ لیٹنے کے لائق ہیں نہ اظہار کے لائق اور خدا تعالیٰ انہیں سے مواخذہ المتعمدين المجترئين۔ کرتا ہے جو عمدا چالا کی سے ایسے کلمے منہ پر لاویں۔ وعجبت للنصارى ولا عَجَبَ من المسرفين، أنهم يقرون بأن اور مجھے عیسائیوں سے تعجب آتا ہے اور جو زیادتی کرے اس پر کچھ تعجب بھی نہیں وہ اقرار کرتے ہیں کہ عيسى كان عبد الله وابن آدم، وكان يقول إني رسول الله وعبده، عیسی خدا کا بندہ اور ابن آدم تھا اور کہا کرتا تھا کہ میں خدا کا بندہ اور اس کا رسول ہوں وحث الناس على التوحيد والاجتناب من الشرك، وانكسر وتواضع اور توحید کے لئے رغبت دیتا تھا اور شرک سے ڈراتا تھا اور کسر نفسی اس میں اتنی تھی کہ