سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 100 of 512

سرّالخلافة — Page 100

روحانی خزائن جلد ۸ ١٠٠ نور الحق الحصة الأولى عليه السلام فأنت تعلم أن القرآن لا يسميه إلها ولا ابن إله، بل يبرئه علیہ السلام کے بارہ میں تو تو خوب جانتا ہے کہ قرآن ان کا نام خدایا ابن خدا نہیں رکھتا بلکہ اس کو ان تمام قولوں سے بری مما قيل، ويرد الأقاويل إفراطًا كانت أو تفريطًا ويقيم عليه الدليل، کرتا ہے جو اس کے حق میں بڑھا کر یا گھٹا کر کہے گئے تھے اور دلائل سے ثابت کرتا ہے کہ وہ بندہ اور مقرب الہی ہے۔ اور ويبين أنه عبد ومن المقرّبين۔ وقال في مقام وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا ایک مقام میں فرماتا ہے کہ عیسائی کہتے ہیں کہ عیسیٰ خدا کا بیٹا ہے خدا بیٹوں سے پاک ہے بلکہ یہ عزت دار بندے ہیں۔ سُبْحَنَهُ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ ۔۔۔ وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلهُ مِنْ دُونِهِ فَذَلِكَ اور جوان میں سے یہ کہے کہ بدوں خدا کے میں بھی خدا ہوں سوایسے شخص کی سزا جہنم ہوگی اور اسی طرح ہم ظالموں کو سزا دیا نَجْزِيْهِ جَهَنَّمَ ۔ كَذَلِكَ نَجْزِي الظَّلِمِينَ ، واشترط قول الظالمين بلفظ من کرتے ہیں اور قرآن نے جو ظالمین کے لفظ کے ساتھ من دونہ کی شرط لگا دی ہے اور کہا ہے کہ جو شخص یہ کہے کہ دونه ليُخرج به قومًا أصبى الحب قلوبهم وهيج كروبهم حتى غلبت میں خدا کے سوا خدا ہوں سو یہ شرط من دونہ کی یعنی سوا کی اس واسطے لگائی ہے تا ان لوگوں کو ظالم ہونے سے مستثی عليهم المَحْوِيَّةُ والسُّكر وجنون العاشقين، فخرجت من أفواههم رکھے جن کے دلوں کو ان کے دوست حقیقی نے اپنی طرف کھینچ لیا اور ان کے دلوں میں بے قراریاں پیدا کر دیں كلمات في مقام الفناء النظرى والجذبات السماوى، و ورد عليهم یہاں تک کہ ان کے دلوں پر محویت اور سکر اور عاشقوں سا جنون آ گیا سوفنا نظری کی حالت اور جذب سماوی کے وارد فكانوا مـن الـوالـهـيـن؛ فقال بعضهم ما في جبتي إلا الله، وقال وقت میں ان کے منہ سے کچھ ایسی باتیں نکل گئیں اور بعض واردات ان پر ایسے وارد ہوئے کہ وہ عشق کی مستی سے بعضهم إن يدى هذه يد الله، وقال بعضهم أنا وجه الله الذي وجهتم بے ہوشوں کی طرح ہو گئے سو بعض نے اس مستی کی حالت میں کہا کہ میرے جبہ میں خدا ہی ہے اور کوئی نہیں اور بعض إليه، وأنا جنب الله الذي فرطتم فيه، وقال بعضهم أنا أقول نے کہا کہ میرا یہ ہاتھ خدا کا ہاتھ ہے اور بعض نے کہا کہ میں ہی وجہ اللہ ہوں جس کی طرف تم نے الانبياء: ۲۷ تا ۳۰