سرّالخلافة — Page 87
روحانی خزائن جلد ۸ ۸۷ نور الحق الحصة الأولى أخذنا السب منهم مثل دين وعـــزتـنــا لـــديهـم كـالـرهـان ان کی گالیاں ہمارے ذمہ قرض کی طرح ہیں اور ہماری عزت ان کے پاس گرو کی طرح ہے سنغشيهم ببرهان كعَضُبِ رقيــــق الـشــفـــــرتين أخ السنان ہم عنقریب دلیل کی تلوار کے ساتھ ان کے سر پر پہنچیں گے جو باریک کناروں والے نیزہ کا بھائی ہے بفأس نختلى تلك الخلاتا ورمح ذابل وقـنـا البــيـان ہم اس گھاس کو دلائل کے تبر کے ساتھ کاٹیں گے اور نیز برچھی بار یک نوک والی اور بیان کے نیزوں سے بجمجمة العدا قد حلَّ غُولٌ فنخــرجــــــه بـآيــات المثاني ان دشمنوں کی کھوپڑی میں ایک بھوت داخل ہو گیا ہے سو ہم اس کو سورۃ فاتحہ سے نکالیں گے لنا دين ودنيا للنصارى ومَقْتُ الضرتين من العيان ہمارے حصہ میں دین آیا اور نصاریٰ کے حصہ میں دنیا سو یہ دوسوتوں کی دشمنی ہے جس کی حقیقت ہر یک کے چشم دید ہے سئمنا كل نوع الضيم منهم ولكـن سبـــهـم صلـى جــنـانـي ہم نے ہر ایک ظلم ان کا اٹھا لیا مگر ان کی گالیوں نے ہمارا دل جلایا سعوا أن يجعلوا أسدًا نِعاجًا وليت الله ليث لا كضان (۲۳) انہوں نے کوشش کی کہ تاکسی طرح شیروں کو بھیڑیں بنائیں اور شیر شیر ہی ہیں وہ بھیڑ کی طرح نہیں ہو سکتے ووَثُبَتُهم كَسِرْحانِ ضَرِى وصورتهم كذى حُبِّ مُقانِ اور ان لوگوں کا حملہ اسی بھیڑیے کی طرح ہے جو شکار کا طالب ہے اور صورت ان کی ایک ملنسار دوست کی طرح ہے وباطنهم كجوف الغير قفر من التقوى وبطن كالجفان اور اندر ان کا گدھے کے پیٹ کی طرح تقویٰ سے خالی اور پیٹ ان پیالوں کی طرح ہے جو کھانے سے بھرے ہوئے ہوں أرى وَغُلا جهولًا وابنَ وَغُلٍ يُرِى كـالـمـرهـفات لظى اللسان میں ایک خسیس ابن خسیس جاہل کو دیکھتا ہوں جو تیز تلواروں کی طرح اپنی زبان کا شعلہ دکھاتا ہے هرير الكلب لا يحثو بنبح على البدر المطهر من عُشان کتے کی آواز اس چاند پر خاک نہیں ڈال سکتی جس کو خدا نے گردو غبار اور دھوئیں سے پاک پیدا کیا ہے