سرّالخلافة — Page 86
روحانی خزائن جلد ۸ ۸۶ اور نور الحق الحصة الأولى عــمـــــايــات الـرجـال تزيد منهم وفتن الدهر تنمو كل آن لوگوں میں ان کے سبب سے گمراہی پھیلتی جاتی ہے فتنی دم بدم بڑھتے جاتے ہیں وما من ملجأ من دون رب كريم قادر كهف الـزمـــان اور ان آفتوں سے بچنے کے لئے بجز اس خدا کے کوئی گریز گاہ نہیں جو کریم اور قادر اور زمانہ کی پناہ ہے فنشكو هاربين من البلايا إلـى اللـه الـحـفـيـــظ المستعان سو ہم ان بلاؤں سے بھاگ کر اسی خدا کی طرف شکایت لے جاتے ہیں جو اپنے بندوں کا نگہبان اور بے قراروں کی مدد کرنے والا ہے جرت حزنا عيون من عيوني بما شـاهـدت فـتـــــا كالدخان میری آنکھوں سے مارے غم کے چشمے بہ نکلے جبکہ میں نے ان فتنوں کا مشاہدہ کیا جو دھوئیں کی مانند اٹھ رہے ہیں فهل وجدت ثكالى مثل وجدى أذى أم هل لها شأن كشـــــانــي پس کیا وہ عورتیں جن کے لڑکے مرجائیں ایسا غم کرتی ہیں جو میں کرتا ہوں کیا دکھ کے وقت ان کا ایسا حال ہوتا ہے جو میرا حال ہے ۶۳ و كم من ظالم يبغى فسادًا وقسيـــــسـيـن أصـــــل الافـتـنــان بہتیرے ظالم یہی چاہتے ہیں جو دنیا میں فساد اور گناہ پھیلے اور توحید میں فتنہ اندازی کی جڑ پادری لوگ ہیں تفاحشهم تجاوز كل حد كأن غـــــذاء هــم فـحـش اللسان پادریوں کی بدگوئی حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے گویا بد زبانی ان کی غذا فكنتُ أطالعنَّ كتاب سابٌ وتمـطـر مـقـلـتي مثل الرثان میں نے ایک ایسے شخص کی پادریوں میں سے کتاب دیکھی جس نے گالیاں دی ہیں سو میں اس کتاب کو دیکھتا تھا اور میری آنکھوں سے مینہ کی طرح آنسو جاری تھے رأينا فيـه كـلـمـا مُحفِظات وسب المصطفى بحر الحنان ہم نے اس کتاب میں وہ کلمے دیکھے جو غصہ دلانے والے تھے اور دیکھا کہ اس شخص نے رسول اللہ صلعم کو گالیاں نکالی ہیں جو بخشائش کا دریا ہے صبرت عليه حتى عيل صبرى میں نے اس بات پر صبر کیا یہاں تک کہ صبر کرتا کرتا ہار گیا ہے۔ ونار الغيظ صارت في جناني اور غصہ کی آگ مجھ میں بھڑکی وتأتي ساعة إن شاء ربي أقر الـعـــيـن بـالـخــصـم المهان اور وہ گھڑی آتی ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ ہم دشمن کی رسوائی دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں گے