سراجِ منیر — Page 29
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۱ سراج منیر ہوں گے۔ اور خدا کے بیٹے اور بیٹیاں انہوں نے بنا رکھی ہیں ۔ ان کو کہہ دے کہ خدا وہی ہے جو ایک ہے اور بے نیاز ہے نہ اس کا کوئی بیٹا اور نہ وہ کسی کا باپ اور نہ کوئی اس کا ہم کفو اور یہ لوگ مکر کریں گے ( یہ آتھم کی ظہور پیشگوئی کی طرف اشارہ ہے ) اور خدا بھی مکر کرے گا کہ ان کو ذرہ مہلت دے گا تا اپنے جھوٹے خیالات سے خوش ہو جائیں ۔ اور پھر فرمایا کہ اس وقت پادریوں اور یہود صفت مسلمانوں کی طرف سے ایک فتنہ برپا ہوگا ۔ پس تو صبر کر جیسا کہ اولو العزم نبیوں نے صبر کیا۔ اور خدا سے اپنے صدق کا ظہور مانگ یعنی دعا کر کہ پیشگوئی کے اس جگہ ایک فتنہ ہوگا پس تجھے صبر کرنا چاہیے جیسا کہ اولوالعزم نبی صبر کرتے رہے۔ یا د رکھ کہ وہ فتنہ خدا کی طرف سے ہوگا۔ تا وہ تجھ سے بہت ہی پیار کرے خدا کا پیار جو اللہ عزیز اکرم ہے۔ یہ وہ عطا ہے جو واپس نہیں لی جائے گی ۔ اس وقت مجھے یہ سمجھ آیا ہے کہ الہام میں ہامان سے مراد نذیر حسین محدث دہلوی ہے کیونکہ پہلے سب سے محمد حسین اس کی طرف التجا لے گیا۔ اور یہ کہا کہ او قد لی یا هامان اس کا یہ مطلب ہے کہ تکفیر کی بنیاد ڈال دے تا دوسرے اس کی پیروی کریں ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نذیر حسین کی عاقبت تباہ ہے اگر تو بہ کر کے نہ مرے اور ممکن ہے کہ ابولہب سے مراد بھی نذیر حسین ہو اور محمدحسین کا انجام اس آیت پر ہو امنت ان لا الہ الا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُوا إِسْرَائیل کیونکہ بعض رؤیا اس عاجز کی اس تاویل کی مؤید ہیں ۔ پس خدا کے فضل سے کچھ بقيه حاشيه تعجب نہیں کہ یہ متواتر تائیدوں کو دیکھ کر آخر تو بہ کرے اور ہامان مارا جائے۔ تیسرا فتنہ جو تیسرے درجہ پر ہے لیکھرام ۲۷ کی موت کا فتنہ ہے یعنی آریوں کی بدگمانیاں اور ضرر رسانی کے لئے پوشیدہ کوششیں جیسا کہ پیسہ اخبار میں بھی ان کے قتل کے ارادوں کا ذکر ہے اور براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۵۷ میں اس فتنہ اور اس کے ساتھ کے نشان کی نسبت یہ الہام ہے میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا ۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا ۔ الفتنة ههنا فاصبر كما صبر اولوا العزم فلما تجلى ربّه للجبل جعله دگا یعنی اس جگہ ایک فتنہ ہوگا پس صبر کر اور جب خدا مشکلات کے پہاڑ پر تجلی کرے گا تو انہیں پاش پاش کر دے گا۔ یہ براہین احمد یہ کے الہام ہیں مگر اس تحریر کے وقت ابھی ایک الہام ہوا اور وہ یہ ہے۔ سلامت بر تو اے مردِ سلامت یونس: ۹۱