سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 494

سراجِ منیر — Page 28

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۰ سراج منیر ہے اور جہاں تک میرے بدن میں طاقت ہے اس ہمدردی کے لئے مشغول ہوں اور میں جیسا کہ قوموں کا ہمدرد ہوں ایسا ہی گورنمنٹ انگریزی کا شکر گزار اور سچے دل سے اس کا خیر خواہ ہوں اور مفسده پردازیوں سے بدل بیزار ہوں ۔ ایک اور نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ پنڈت لیکھرام کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی تھی اس کے وقوع سے سترہ برس پہلے براہین احمدیہ میں اس پیشگوئی کی خبر دی گئی ہے جیسا کہ براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۴۱ میں یہ الہام ہے لن ترضی عنك اليهود ولا النصارى و خرقوا له بنين و بنات بغیر علم۔ قل هو الله احد الله الصمد لم يلد و لم يولد ولم يكن له كفوا احد۔ ويمكرون ٢٦ و يمكر الله والـ كر الله والله خير الماكرين۔ الفتنة ههنا فاصبر كما صبر اولوا العزم۔ قل رب ادخلني مدخل صدق ولا تيئس من روح الله الا ان روح الله قريب۔ الا ان نصر الله قریب ۔ یاتیك من كل فج عميق۔ ياتون من كل فج عميق۔ ينصرك الله من عنده ينصرك رجال نوحى اليهم من السماء۔ لا مبدل لكلمات الله۔ انا فتحنا لک فتحا مبینا یعنی پادری لوگ اور یہودی صفت مسلمان تجھ سے راضی نہیں ۲۶ حاشیه - براہین احمدیہ میں تین فتنوں کا ذکر ہے۔ اول بڑا فتنہ عیسائی پادریوں کا جنہوں نے مکاری سے تمام جہان میں شور مچا دیا کہ آتھم کی پیشگوئی جھوٹھی نکلی اور یہودی صفت مولویوں اور ان کے ہم مشرب مسلمانوں کو ساتھ ملا لیا دیکھو صفحہ ۲۴۱۔ دوسرا فتنہ جو دوسرے درجہ پر ہے محمد حسین بٹالوی کا فتنہ ہے جس فتنہ کی نسبت براہین کے صفحہ ۵۱۰ میں یہ لکھا ہے و اذ يمكر بك الذي كفر اوقد لي ياهامان لعلى اطلع الى الله موسى و اني لاظنه من الكاذبين۔ تبت يدا أبي لهب و تب ما كان له ان يدخل فيها الا خائفا ۔۔ وما اصابك فمن الله۔ الفتنة ههنا فاصبر كما صبر اولوا العزم۔ الا انها فتنة من الله ليحبّ حبا جما ۔ حبا من الله العزيز الاكرم عطاء ا غير مجذوذ یعنی وہ زمانہ یا درکھ کہ جب ایک منکر تجھ سے مکر کرے گا اور اپنے دوست ہامان کو کہے گا کہ فتنہ کی آگ بھڑکا کہ میں موسیٰ کے خدا پر اطلاع پانا چاہتا ہوں اور میں گمان کرتا ہوں کہ وہ جھوٹا ہے۔ ابولہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور وہ آپ بھی ہلاک ہو گیا اس کو نہیں چاہیے تھا کہ تکفیر اور تکذیب کے امر میں دخل دیتا مگر یہ کہ ڈرتا ہوا ان باتوں کو پوچھ لیتا کہ جو اس کو سمجھ نہیں آتی تھیں اور تجھے جو کچھ پہونچے گا وہ خدا کی طرف سے ہے۔