شحنۂِ حق — Page 453
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۳۹ شحنه حق حاشیه متعلق صفحه ۳۷۲ ہم نے جو ایک چٹھی ایک لائق اور طالب حق انگریز کی اس کتاب کے صفحہ ۳۶ میں درج کی ہے اسی انگریز کی ایک دوسری چٹھی آج یکم اپریل ۱۸۸۷ء کو امریکہ سے پہنچی ہے جس میں اس قدر شوق اور اخلاص اور طلب حق کی بو آتی ہے کہ ہم نے اپنے مخالف ہم وطنوں کے ملاحظہ کے لئے کہ جو با وجود نزدیک ہونے کے بہت ہی دور ہیں اس چٹھی کا بجنس معه ترجمه درج کر دینا قرین مصلحت سمجھا اور ساتھ ہی وہ مختصر جواب جو ہم نے لکھا ہے ناظرین کی اطلاع کے لئے تحریر کیا گیا ہے۔ اور وہ چٹھی معہ ترجمہ یہ ہے :۔ ۳۰۲۱۔ایسٹن ایونیو سینٹ لوئی مسوری یو۔ایس۔اے ۲۴ فروری ۱۸۸۷ء مرزاغلام احمد صاحب مخدومنا ΦΛΙ 3021 EASTON AVENUE, ST۔ Louis Missouri, U۔ S۔ A۔ February 24th, 1887 BABU MIRZA GHULM AHMAD Esteemed Sir, I cannot adequately express to you my gratitude for the letter received from you under date of December 1 7۔ I had almost given up all hope of receiving a reply but the contents of the letter and circulars fully repaid me for the delay۔ I hardly know what to say anxious to gain more of the truth than I have thus far found۔ After reading your circulars an idea occured to me which I will present to you for your consideration knowing or rather feeling confident that you, who are so much more spiritual Ar than I, so much nearer to God, سے یقین کرتا ہوں کہ آپ جو روحانی ترقی میں میرے سے آپ کی چٹھی مورخہ ۱۷۔ دسمبر میرے پاس پہنچی۔ میں اس قدر شکرگزار اور مرہون منت ہوا کہ بیان نہیں کر سکتا۔ جواب پہنچنے کی میں تمام امیدیں قطع کر چکا تھا۔ لیکن اس آپ کی چٹھی اور اشتہار نے توقف کا پورا پورا عوض دے دیا۔ بہ سبب ہیچمدانی اور in reply except that I am still very کم واقفیتی کے میں صرف یہی جواب میں لکھ سکتا ہوں کہ ہمیشہ سے میرا یہی شوق اور یہی آرزو ہے کہ سچی حقیقتوں سے مجھے اور بھی زیادہ خبر ہو۔ آپ کا اشتہار پڑھنے کے بعد میرے دل میں ایک خیال پیدا ہوا جس کو میں بغرض غور و تفکر حضور پیش کروں گا نہ صرف معقولی طور سے بلکہ ایمانی جوش کی تحریک بڑھ کر اور خدا کے قریب تر ہیں مجھ کو ایسی طرز سے جواب دیں گے جو کہ افضل و انسب ہو۔ اگر میرے لئے ہندوستان will answer me in a way that will be for the best۔ Were it possible for me to visit India I would