شحنۂِ حق — Page 423
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۰۹ شحنه حق ہندوؤں کے ویدوں کی کچھ ماہیت اور ان کی تعلیم کا کسی قدر نمونه پروفیسر ولسن صاحب اپنے ترجمہ رگوید کے دیباچہ میں لکھتے ہیں کہ رگوید کے ایک سو اکتیس منتروں میں سے جو اول اشتکا میں ہیں سینتیس صرف اگنی کی ہی تعریف میں ہیں یا اگنی کے ساتھ اور دیوتاؤں کی مہما ان میں درج ہے اور پینتالیس منتروں میں اندر کی مہما برن ہے اور منجملہ باقی منتروں کے باراں منتر مروت یعنی ہوا کے دیوتاؤں کی تعریف میں ہیں جو کہ اندر کے ہمراہی ہیں اور گیارہ اسونوں کی تعریف میں ہیں جو کہ سورج کے پوتر ہیں ۔ ۶۲ چار منتر صبح کے دیوتا کی تعریف میں ہیں اور چا روسو ید یوا کی تعریف میں جن کو سر بھو دیوتا بھی کہتے ہیں اور باقی منتروں میں ادنی دیوتاؤں کی مہما برن ہے ۔ اس بیان سے صاف ہویدا ہے کہ اس زمانہ میں عناصر کی پرستش ہوتی تھی ۔ تم كلامه یہ پروفیسر ولسن صاحب مترجم وید کی رائے ہے جس کو انہوں نے اپنے ترجمہ رگ وید کے دیباچہ میں لکھا ہے ۔ اب ہم بطور نمونہ وہ چند شرتیاں رگ وید کی اس جگہ تحریر کرتے ہیں جن کی صحت کو ہم نے نہ صرف ایک کتاب سے بلکہ کئی وسائل سے اور کامل واقف کاروں کی شہادت سے بپا یہ ثبوت پہنچا لیا ہے پس اب آریوں کے لئے ہرگز یہ جائز نہیں ہوگا کہ صرف گردن ہلا کر ان شرتیوں