شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 307 of 548

شحنۂِ حق — Page 307

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۹۵ سرمه چشم آریہ جن کو کچھ تو نفسانی تحریفوں کے کیڑے نے کھا لیا اور کچھ وہ پہلے ہی سے بودی اور ۲۴۵ سوراخ دار اور فطرتی عفونتوں کو ساتھ رکھتے ہیں ۔ اب ہم اپنی پہلی کلام کی طرف رجوع کر کے کہتے ہیں کہ وید برکات روحانیہ اور محبت الہیہ تک پہنچانے سے قاصر اور عاجز ہے اور کیونکر قاصر و عاجز نہ ہو وہ وسائل جن سے یہ غمتیں حاصل بقيه حاشیه ہوتا ہے کہ گویا وہ انسان اور حیوان میں برزخ ہیں ۔ مثلاً بندر ۔ اور یہ دقیقہ کہ تمام کامل انسانوں میں سے ایک ہی اکمل واتم انسان پر اختتام سلسلہ کا ئنات ہوتا ہے یہ ایک ایسے دائرہ کے کھینچنے سے جو دوقوسوں پر مشتمل ہو سمجھ میں آسکتا ہے۔ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ وجود واجب وممکن جس تناسب سے روحانی طور پر واقع ہے اگر اس امر معقول کو ایک صورت محسوسیہ میں دکھلایا جائے تو ایک ایسے دائرہ کی شکل نکل آئے گی جس کا انقسام دوقوسوں پر ہوگا جن میں سے ایک قوس اعلیٰ اور دوسرا قوس ادنی ہوگا اس طرح ع ص ط پر قوس اعلیٰ تقسیم و انقسام سے بکلی منزہ اور درک قوس اعلیٰ وجود قدیم عقل و فہم و قیاس و گمان سے بالاتر ہے لیکن قوس ادنی قوس ادونی وجود محدث جو موجودات ممکن الوجود کا قوس ہے وہ باعتبار شدت ج دب ک وضعف و زیادت نقصان مراتب متفاوته و مختلفہ پر مشتمل ہے ۔ کیونکہ یہ بات نہایت ظاہر ہے کہ انسانی ترقیات کا سارا سلسلہ وتر کے کسی ایک ہی نقطہ پر ختم نہیں ہو سکتا وجہ یہ کہ جس نقطہ فطرتیہ سے کوئی نفس او پر کوترقی کرنا شروع کرے گا اس کی سیدھی رفتار اسی نقطہ انتہائی تک ہو گی جو اس کی جبلت اور استعداد کے پیش رو پڑا ہوا ہے۔ اب فرض کرو کہ مثلاً نقاط ج د ب ک جو استعدادات مختلفہ انسانیہ کے فطرتی نے نقطے ہیں نقاط ع ص ط م تک جو ان کے پیش رو نقاط پڑے ہیں جن کی طرف ۲۴۵