شہادة القرآن — Page 300
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۹۸ شهادة القرآن سو اول ہم ان ہر سہ تنقیحوں میں سے پہلی تنقیح کو بیان کرتے ہیں سووار کو بیان کرتے ہیں سو واضح ہو کہ اس امر سے دنیا میں کسی کو بھی انکار نہیں کہ احادیث میں مسیح موعود کی کھلی کھلی پیشگوئی موجود ہے بلکہ قریبا تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ احادیث کی رو سے ضرور ایک شخص آنے والا ہے جس کا نام عیسی بن مریم ہو گا اور یہ پیشگوئی بخاری اور مسلم اور ترمذی وغیرہ کتب حدیث میں اس کثرت سے پائی جاتی ہے جو ایک منصف مزاج کی تسلی کے لئے کافی ہے اور بالضرورت اس قدر مشترک پر ایمان لانا پڑتا ہے کہ ایک مسیح موعود آنے والا ہے۔ اگر چہ یہ سچ ہے کہ اکثر ہر یک حدیث اپنی ذات میں مرتبہ احاد سے زیادہ نہیں مگر اس میں کچھ بھی کلام نہیں کہ جس قدر طرق متفرقہ کی رو سے احادیث نبویہ اس بارے میں مدون ہو چکی ہیں اُن سب کو یک جائی نظر کے ساتھ دیکھنے سے بلا شبہ اس قدر قطعی اور ۔ اور یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ ضرور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلا کہ ضرور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کے آنے کی خبر دی ہے اور پھر جب ہم ان احادیث کے ساتھ جو اہل سنت و جماعت کے ہاتھ میں ہیں ان احادیث کو بھی ملاتے ہیں جو دوسرے فرقے اسلام کے مثلاً شیعہ وغیرہ ان پر بھروسہ رکھتے ہیں تو اور بھی اس تواتر کی قوت اور طاقت ثابت ہوتی ہے اور پھر اسکے ساتھ جب صدہا کتا بیں متصوفین کی دیکھی جاتی ہیں تو وہ بھی اسی کی شہادت دے رہی ہیں۔ پھر بعد اسکے جب ہم بیرونی طور پر اہل کتاب یعنی نصاری کی کتابیں دیکھتے ہیں تو یہ خبر ان سے بھی ملتی ہے اور ساتھ ہی حضرت مسیح کے اس فیصلہ سے جو ایلیا کے آسمان سے نازل ہونیکے بارہ میں ہے یہ بھی انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کی خبریں کبھی حقیقت پر محمول نہیں ہوتیں لیکن یہ خبر مسیح موعود کے آنے کی اس قدر زور کے ساتھ ہر ایک زمانہ میں پھیلی ہوئی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی جہالت نہیں ہوگی کہ اس کے تو اتر سے انکار کیا جائے ۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر اسلام کی وہ کتابیں جن کی رو سے یہ خبر سلسلہ وار شائع ہوتی چلی آئی ہے صدی وار مرتب کر کے اکٹھی کی جائیں تو ایسی کتابیں ہزار ہا سے کچھ کم نہیں ہونگی۔ ہاں یہ بات اُس شخص کو سمجھانا مشکل ہے کہ جو اسلامی کتابوں سے بالکل بیخبر ہے اور در حقیقت ایسے اعتراض کرنے والے اپنی بدقسمتی کی وجہ سے کچھ ایسے بے خبر ہوتے ہیں کہ انھیں یہ بصیرت حاصل ہی نہیں ہوتی کہ فلاں واقعہ کس قدر قوت اور مضبوطی کے ساتھ اپنا ثبوت رکھتا ہے پس ایسا ہی صاحب معترض نے کسی سے سن لیا ہے کہ احادیث اکثر احاد کے مرتبہ پر ہیں اور اس سے