شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 299 of 502

شہادة القرآن — Page 299

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۹۷ شهادة القرآن بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله والسلام عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطفى مسیح موعود ایک صاحب عطا محمد نام اپنے خط مطبوعہ اگست ۱۸۹۳ء میں مجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ اس بات پر کیا دلیل ہے کہ آپ مسیح موعود ہیں یا کسی مسیح کا ہم کو انتظار کرنا واجب ولازم ہے۔ اس جگہ سب سے پہلے یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ صاحب معترض کا یہ مذہب ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام در حقیقت فوت ہو گئے ہیں جیسا کہ قرآن شریف میں بتصریح موجود ہے لیکن وہ اس بات سے منکر ہیں کہ عیسی کے نام پر کوئی اس امت میں آنے والا ہے وہ مانتے ہیں کہ احادیث میں یہ پیشگوئی موجود ہے مگر احادیث کے بیان کو وہ پایہ اعتبار سے ساقط سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ احادیث زمانہ دراز کے بعد جمع کی گئی ہیں اور اکثر مجموعہ احاد ہے مفید یقین نہیں ہیں اس لئے وہ مسیح موعود کی خبر کو جو احادیث کے رو سے ثابت ہے حقیقت مثبتہ خیال نہیں کرتے اور ایسے اخبار کو جو محض حدیث کی رو سے بیان کئے جائیں پیچ اور لغو خیال کرتے ہیں جن کا ان کی نظر میں کوئی بھی قابل قدر ثبوت نہیں اس لئے اس مقام میں اُن کے مذاق پر جواب دینا ضروری ہے۔ سو واضح ہو کہ اس مسئلہ میں دراصل تنقیح طلب تین امر ہیں۔ اول یہ کہ مسیح موعود کے آنے کی خبر جو حدیثوں میں پائی جاتی ہے کیا یہ اس وجہ سے نا قابل اعتبار ہے کہ حدیثوں کا بیان مرتبہ یقین سے دور و مہجور ہے۔ دوسرے یہ کہ کیا قرآن کریم میں اس پیشگوئی کے بارے میں کچھ ذکر ہے یا نہیں۔ تیسرے یہ کہ اگر یہ پیشگوئی ایک ثابت شدہ حقیقت ہے تو اس بات کا کیا ثبوت کہ اُس کا مصداق یہی عاجز ہے۔