سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 250 of 550

سَت بچن — Page 250

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۵۰ ست بچن ۱۲۶ کے لئے ہیں بلکہ ایک واقعی امر ہے جس کو محض اللہ بطور شہادت ہم نے ادا کر دیا ہے اور اب ہم ستیارتھ پرکاش کا وہ مقام لکھتے ہیں جس میں دیانند نے سراسر اپنی جہالت اور دلی عناد سے باوا صاحب کی نسبت بدگوئی کے مکر وہ لفظ استعمال کئے ہیں اور وہ یہ ہے :۔ ہے:۔ ستیارتھ پرکاش صفحه ۳۵۶ مطبوعہ اجمیر ۱۹۴۸ نانک جی کا آشے تو اچھا تھا پرنتو ودھیا کچھ بھی نہیں ترجمہ: نانک جی کا خیال تو اچھا تھا پر علم کچھ بھی نہیں تھا تھی ہاں بھاشا اُس دیش کی جو کہ گراموں کی ہے ہاں بولی اُس دیس کی جو کہ دیہاتی ہے اُسے جانتے تھے وید آدی شاستر اور سنسکرت کچھ sad and et dalfa e site नानक जी का आशय तो अच्छा था परन्तु विद्या कुछ भी नहीं कि ग्रामों की है اُسے جانتے تھے وید وغیرہ شاستر اور سنسکرت کچھ संस्कृत कुछ بھی نہیں جانتے تھے جو جانتے ہوتے تو نڑ بھے aft et and et at a بھی جانتے نہیں تھے جو جانتے ہوتے تو نر بھے होते तो "निर्भय" شید کو نہ بھو کیوں لکھتے اور اس کا درشانت اُن کا les fast" i ferrari لفظ کو نر بھو کیوں لکھتے اور اس کی نظیر اُن کا और इस का दृष्टान्त उन का بنا یا سنسکرتی ستوتر ہے چاہتے تھے کہ میں سنسکرت amran sial an area بنایا ہوا سنسکرتی ستوتر ہے چاہتے تھے کہ میں سنسکرت میں بھی پگ اڑاؤں پرنٹو بنا پڑھے سنسکرت میں بھی ٹانگ اڑاؤں لیکن بغیر پڑھے سنسکرت کیسے آسکتا ہے ہاں اُن گرامینوں کے سامنے کیسے آسکتا ہے ہاں ان دیہاتیوں کے سامنے थे कि मैं संस्कृत पढ़े संस्कृत कैसे आ सकता है हां उन ग्रामीणों के सामने کہ جنہوں نے سنسکرت بھی سنا بھی نہیں تھا 1 fa for a a f भी नहीं था کہ جنہوں نے سنسکرت کبھی سنی بھی نہیں تھی "संस्कृती" बना कर संस्कृत के سنسکرتی بنا کر سنسکرت کے بھی پنڈت بن گئ भी पण्डित बन गए होंगे यह बात अपने मान प्रतिष्ठा और अपनी سنسکرتی بنا کر سنسکرت کے بھی پنڈت بن گئے ہونگے ہونگے یہ یہ بات اپنے مان پر تشٹھا اور اپنی بات اپنے فخر اور بڑائی اور اپنی