سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 249 of 550

سَت بچن — Page 249

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۴۹ ست بچن پنڈت دیانند کی باوانا تک صاحب کی نسبت رائے ۱۲۵ ہم پہلے اس سے پنڈت دیا نند کے اُن تمام اعتراضات کا جواب دے چکے ہیں جو اُس نے با وا صاحب کی نسبت اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں لکھے ہیں لیکن اس وقت ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ اُس کی وہ تمام عبارت جو باوا صاحب کے متعلق ستیارتھ پرکاش میں ہے سکھ صاحبوں کے ملاحظہ کیلئے اس جگہ تحریر کر دیں تا معلوم ہو کہ پنڈت دیانند اور اُن کے پیرو آریہ در حقیقت با وا صاحب کی عزت اور بزرگی کے ذاتی دشمن ہیں اور تا وہ اس بات پر غور کریں کہ ہم نے باوا صاحب کی نسبت جو کچھ لکھا ہے وہ اُن کی کمال معرفت اور سچے گیان کے مناسب حال ہے لیکن دیا نند نے اس بات پر بہت زور مارا ہے کہ تا خواہ نہ خواہ با وا صاحب کو نادان اور گیان اور ودیا سے محروم ٹھہر اوے مگر یہ در حقیقت اُس کی غلطی ہے جو اُس کی دلی تاریکی کی وجہ سے اُس پر غالب آگئی ہے سچا گیان اور سچی معرفت انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنے سے ملتی ہے یہی وجہ ہے کہ دیا نند کا کلام باوجود اس دعوے وید دانی کے نہایت بے برکت اور خشک اور سچی معرفت اور گیان سے ہزاروں کوس دور اور بات بات میں خود پسندی او پسندی اور تکبر اور سطحی خیال کی بد بوؤں سے بھرا ہوا ہے لیکن باوا صاحب کا کلام ما کا کلام معلوم ہوتا ہے جس کے دل پر در حقیقت خدا تعالیٰ کی محبت اور عشق نے غلبہ کیا ہوا ہے اور ہر یک شعر توحید کی خوشبو سے بھرا ہوا معلوم ہوتا ہے دیا نند کی کلام پر نظر ڈال کر فی ر دل گواہی دیتا ہے کہ یہ شخص ایک موٹے خیال کا آدمی اور صرف لا صرف لفظ پرستی کے گڑھے میں گرفتار اور فقر اور جوگ کے سچے نور سے بے نصیب اور محروم ہے لیکن با واصاحب کے کلام پر نگاہ کر کے یقین آ جاتا ہے کہ اس شخص کا دل الفاظ کے خشک بیابان کو طے کر کے نہایت گہرے دریائے محبت الہی میں غوطہ زن ہے پس با وا صاحب کی مثال دیا نند کے ساتھ ایک ہرے بھرے باغ اور خشک لکڑی کی مثال ہے ہمارے یہ کلمات نہ کسی کی خوشامد کیلئے اور نہ کسی کو رنج دینے الفور شخص شخص