سناتن دھرم — Page 430
روحانی خزائن جلد ۱۹ باتیں ثابت نہیں تو الزام ثابت ہے۔ ۴۲۸ نسیم دعوت پھر ایک اور اعتراض آر یہ صاحبوں کے اصول پر ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اس پر بھی توجہ کریں گے اور وہ یہ ہے کہ یہ قرار دیا گیا ہے کہ گو دنیا کے لئے ایک از لی اور ابدی سلسلہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا لیکن پرمیشر نے قدیم سے یہی طریق مقرر کر رکھا ہے کہ ہمیشہ وہ سنسکرت زبان میں اور آریہ ورت میں آسمانی کتاب پیدائش کے ابتدا میں بھیجتا رہتا ہے۔ یہ مقولہ تین طور سے غلط ہے۔ اول خدا تعالیٰ کی رحمت عامہ کے برخلاف ہے یعنی جس حالت میں دنیا میں مختلف بلاد اور مختلف زبانیں پائی جاتی ہیں اور ایک ملک کے باشندے دوسری قوم کی زبان سے نا آشنا ہیں بلکہ اس زمانہ سے پہلے تو یہ حالت رہی ہے کہ ایک ملک دوسرے ملک کے وجود سے بھی بے خبر تھا اور آریہ ورت میں یہ خیال تھا کہ ہمالہ پہاڑ کے پرے کوئی آبادی نہیں تو اس صورت میں جبکہ دنیا کے تفرقہ کی یہ صورت تھی ہمیشہ اور کروڑ ہا برسوں سے آسمانی کتاب کو ایک ہی ملک تک محد و درکھنا یہ خدا کی اس رحمت کے برخلاف ہے جو اس کے رب العالمين ہونے کی شان کو زیبا ہے اور اس کے برخلاف جو قرآن شریف نے فرمایا ہے۔ وہ نہایت معقول اور قرین انصاف ہے اور وہ یہ کہ وہ فرماتا ہے ۔ وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ لَ یعنی کوئی بستی اور کوئی آباد ملک نہیں جس میں پیغمبر نہیں بھیجا گیا اور پھر فرماتا ہے۔ يَتْلُوا لُوْا صُحُقًا مُطَهَّرَةً فِيهَا كُتُبُ قَيْمَةٌ ۔ - یعنی یہ کتاب جو قرآن شریف ہے یہ مجموعہ ان تمام کتابوں کا ہے جو پہلے پہلے بھیجی گئی تھیں ۔ اس آیت سے مطلب یہ ہے کہ خدا نے پہلے متفرق طور پر ہر ایک امت کو جداجدا دستور العمل بھیجا اور پھر چاہا کہ جیسا کہ خدا ایک ہے وہ بھی ایک ہو جائیں تب سب کو اکٹھا کرنے کے لئے قرآن کو بھیجا اور خبر دی کہ ایک زمانہ آنے والا ہے کہ خدا تمام قوموں کو ایک قوم بنا دے گا اور تمام ملکوں کو ایک ملک کر دے گا اور تمام زبانوں کو ایک ۶۲ زبان بنادے گا سو ہم دیکھتے ہیں کہ دن بدن دنیا اس صورت کے قریب آتی جاتی ہے اور فاطر: ۲۵ ۲ البينة : ۴۳