سناتن دھرم — Page 429
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۲۷ نسیم دعوت طاقتیں پر میشر کی طاقتیں نہیں کہلا سکتیں مگر افسوس کہ آریہ سماجی اصول کے موافق ذرات یعنی پر مانو اور جیو یعنی روح یہ سب انادی اور قدیم اور غیر مخلوق ہیں اس لئے ان کے گن اور صفات اور خواص اور طاقتیں بھی غیر مخلوق اور انادی ہیں پر میشر کو ان میں کچھ دخل نہیں ۔ پس اگر وید کا یہی مذہب ہے تو ماننا پڑتا ہے کہ وید نے آگ کے صفات بیان کر کے آتش پرستی سکھائی ہے اور سورج کی استت اور مہما کر کے سورج پرستی سکھائی ہے۔ ہاں اگر ان سب چیزوں کو پرمیشر سے نکلی ہوئی مان لیں اور ان کی طاقتیں اس کی طاقتیں مان لیں تو پھر اعتراض باقی نہیں رہتا اور یاد رہے کہ اس کے ساتھ دوسری شرط بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ وید میں ان صد ہاشرتیوں کے مقابل پر جن میں سورج اور آگ وغیرہ کی استت و مہما موجود ہے ۔ رہے پچاس یا ساٹھ یا ستر ایسی شرتیاں بھی پائی جائیں جن کا یہ مطلب ہو کہ یہ چیزیں ہرگز پرستش کے لائق نہیں اور نہ ان سے مُراد مانگ سکتے ہیں ۔ ان دو باتوں کے ثابت ہو جانے سے وید اس لائق ہو گا کہ اس الزام سے اس کو بری کر دیا جاوے اور وہ فرد قرار داد جرم اس پر سے اُٹھالی جائے جو بڑے بڑے اہل الرائے اس پر لگا رہے ہیں اور اگر یہ _۵۰ بقیه حاشیه :- تب وجد اور شوق محبت سے میری آنکھ کھل گئی کہ خدا نے میر انشاء پورا کیا اور میری تحریر پر بے تامل دستخط کر دیئے۔ اس وقت میرے پاس ایک دوست موجود تھا یعنی میاں عبداللہ سنوری ۔اس نے شور مچایا کہ یہ قطرے سُرخ کہاں سے گرے اور جیسا کہ عالم کشف میں دیکھا تھا در حقیقت خارج میں بھی وہ سرخ قطرے تر بتر میرے گرتہ پر پڑے تھے اور کچھ عبداللہ پر بھی ۔ اب بتلاؤ کہ یہ تو تمام کشفی معاملہ تھا۔ ظاہر میں ان خونی قطروں کا وجود کیونکر پیدا ہو گیا اور کس مادہ سے وہ خون پیدا ہوا۔ آر یہ صاحبان بجز اس کے کیا جواب دے سکتے ہیں کہ یہ قصہ جھوٹا ہے اور آپ بنالیا ہے اور یہی قصہ میں نے سرمہ چشم آریہ میں لکھا ہے۔ کیونکہ انہی دنوں میں وہ کتاب تالیف ہوئی تھی اور چونکہ عین آریہ صاحبوں کے مقابل پر یہ نشان ظاہر ہوا تھا اس لئے میرے خیال میں یہ پنڈت لیکھرام کے مارے جانے کی طرف اشارہ تھا اور طاعون کے وقوع کی طرف بھی اشارہ تھا۔ اسی طرح صد ہانشان ہیں جو ایسی قدرتوں پر دلالت کرتے ہیں جو بغیر مادہ کے ظہور میں آئیں ۔ جس نے یہ قدرتیں نہیں دیکھیں اس نے اپنے خدا کا کیا دیکھا۔ منہ