رازِ حقیقت — Page 369
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۶۹ ايام الصلح نادان زٹلی نے جو اپنے تئیں ایک ملا سمجھتا ہے یہ اشتہار یکم جون ۱۸۹۸ء کو نکالا ہے اور گورنمنٹ انگریزی کی شکر گزاری کی وجہ سے میرے پر اعتراض کیا ہے۔ ایسے ہی اس کے بھائی اور بھی ہیں ۔ مگر میں ایسے عقیدے سے ہرگز اتفاق نہیں رکھتا جس کو وہ دل میں رکھتے ہیں اور مجھے سچائی کے بیان کرنے میں اس بات کا کچھ خوف نہیں کہ یہ لوگ مجھے کافر کہیں یا دجال نام رکھیں میرا حساب خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ اور اسی اشتہار میں یہ شخص میرے پر یہ بھی اعتراض کرتا ہے کہ باوجود یکہ انگریزوں کی اس قدر خوشامد کی گئی ہے پھر بھی اُن کے مذہب پر حملہ کیا ہے مگر یہ کوتاہ اندیش نہیں جانتا ۱۲۸ کہ میں نے دونوں موقعوں پر پاک کانشنس سے کام لیا ہے نہ وہ خوشامد ہے اور نہ یہ بیجا حملہ ہے۔ میرا کام اصلاح ہے کسی شرارت کو پیدا کرنا میرا کام نہیں ہے اور نہ بیجا خوشامد کرنا میرا طریق ہے۔ پس جیسا کہ میں نے ایک پہلو میں اس بات میں لوگوں کی اصلاح دیکھی کہ وہ سلطنت انگریزی کے ماتحت وفاداری اور اطاعت کے ساتھ زندگی بسر کریں اور دل کو تمام بغاوت کے خیالات سے پاک رکھیں اور واقعی طور پر سرکار انگریزی کے مخلص اور خیر خواہ بنے رہیں اسی طرح میں نے دوسرے پہلو سے انسانوں کی خیر خواہی اسی میں دیکھی کہ وہ اس کامل خدا پر ایمان لاویں جس کی عظمت اور قدرت اور لازوال صفات زمین و آسمان پر غور کرنے سے نظر آ رہی ہے۔ انسانوں کو خدا بنانا غلطی ہے ہمیں چاہئے کہ غلطی کی پیروی نہ کریں اور مخلوق کو خدا بنانے سے پر ہیز کریں ۔ حضرت عیسی علیہ السلام بڑے مقدس ، بڑے راستباز ، بڑے برگزیدہ تھے مگر اُن کو خدا کہنا اس سچے خدا کی تو ہین ہے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے سچ یہی ہے کہ وہ انسان تھے خدا نہیں تھے اور انسانی کمالات سے بڑھ کر اُن میں کچھ نہ تھا۔ خدا اب بھی ہمیں وہ کمالات دے سکتا ہے جو انہیں دیئے تھے اہے جس کی آنکھیں دیکھنے کی ہوں دیکھے ۔ پس خدا وہی ہے جو ہمارا مددگار ہے جیسا کہ پہلوں کا تھا۔ اُسی کی طرف قرآن رہبری کرتا ہے۔ یہی وہ بات ہے جو خدا نے میرے پر اور دیتا ہے۔