رازِ حقیقت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 368 of 550

رازِ حقیقت — Page 368

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۶۸ ايام الصلح اگر اتفاقاً کسی مسلمان سے کوئی زخم گائے کو پہنچ جاتا تھا تو اُس کی وہی سزا تھی جو ایک مجرم قتل عمد کی سزا ہوتی تھی ۔ مسلمانوں میں اس قدر جہالت پھیل گئی تھی کہ بہتوں کو صحیح طور پر کلمہ بھی یاد نہ تھا اور دینی کتب کی واقفیت کا یہ حال تھا کہ میں نے سُنا ہے کہ ان دنوں میں ایک بزرگ تھے جو نماز کے بعد یہ دعا کیا کرتے تھے کہ یا الہی مجھ پر یہ فضل کر کہ ایک مرتبہ میں صحیح بخاری دیکھ لوں اور پھر ۱۲۷ عین دعا کے وقت دل پر کچھ نومیدی غالب ہو کر چیخیں مار کر روتے تھے غالباً یہ خیال آتا تھا کہ میری قسمت ایسی کہاں کہ میں اپنی عمر میں اس متبرک کتاب کو دیکھ سکوں ۔ اب عہدِ سلطنتِ انگریزی میں وہی کتاب ہے جو تھوڑی سی قیمت پر ہر ایک کتب فروش سے مل سکتی ہے بلکہ حدیث اور تفسیر کی نایاب کتابیں جن کے ہم لوگوں نے کبھی نام بھی نہیں سنے تھے انگریزوں کے احسن انتظام سے مصر اور قسطنطنیہ اور بلاد شام اور دور دراز ملکوں اور بعض یورپ کے کتب خانوں اور مطبعوں سے ہمارے ملک میں چلی آتی ہیں۔ اور پنجاب جو مردہ بلکہ مردار کی طرح ہو گیا تھا اب علم سے سمندر کی طرح بھرتا جاتا ہے اور یقین ہے کہ وہ جلد تر ہر ایک بات میں ہندوستان سے سبقت لے جائے گا۔ پھر اب انصافا کہو کہ کسی سلطنت کے آنے سے یہ باتیں ہم لوگوں کو نصیب ہوئیں اور کس مبارک گورنمنٹ کے قدم سے ہم وحشیانہ حالت سے باہر ہوئے؟ کیا یہ خوشامد کی باتیں ہیں یا بیان واقعہ ہے؟ انصاف اور کلمۃ الحق کو چھوڑ نا ایمان نہیں ہے بلکہ بے ایمانی ہے۔ لہذا اصل بات یہی ہے کہ ہمیں ان تمام احسانات کو یاد کر کے سچے دل سے اس سلطنت سے اخلاص رکھنا چاہئیے اور منافقانہ خیالات کو دل سے اُٹھا دینا چاہئے ۔ ہمیں کوشش کرنی چاہئیے کہ ہم اطاعت اور صدق اور وفاداری کے ساتھ اس احسان کا بدلہ اتاریں جو انگریزوں نے ہم پر اور ہمارے بزرگوں پر کیا ہے۔ ورنہ خوب یا د رکھو کہ ہم خدا تعالیٰ کے گنہگار ٹھہریں گے۔ میں بعض احمق اور متعصب ملاؤں کے خیالات سے ناواقف نہیں ہوں۔ میں خوب جانتا ہوں کہ کس قدر اُن کے دل غبار آلودہ ہیں۔ انہی بیجا تعصبوں کی وجہ سے