رازِ حقیقت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 309 of 550

رازِ حقیقت — Page 309

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۰۹ ايام الصلح آنے کی اُمید طمع خام ۔ اور اگر کوئی اور نبی نیا یا پُرانا آوے تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیونکر خاتم الانبیاء رہیں۔ ہاں وحی ولایت اور مکالمات الہیہ کا دروازہ بند نہیں ہے جس حالت میں مطلب صرف یہ ہے کہ نئے نشانوں کے ساتھ دینِ حق کی تصدیق کی جائے اور سچے دین کی شہادت دی جائے تو جونشان خدا تعالیٰ کے نشان ہیں خواہ وہ نبی کے ذریعہ سے ظاہر ہوں اور خواہ ولی کے ذریعہ سے وہ سب ایک درجہ کے ہیں کیونکہ بھیجنے والا ایک ہی ہے۔ ایسا خیال کرنا سراسر جہالت اور حمق ہے کہ اگر خدا تعالیٰ نبی کے ہاتھ سے اور نبی کے ذریعہ سے کوئی تائید سماوی کرے تو وہ قوت اور شوکت میں زیادہ ہے۔ اور اگر ولی کی معرفت وہ تائید ہو تو وہ قوت اور شوکت میں کم ہے بلکہ بعض نشان تو تائید اسلام کے ایسے ظاہر ہوتے ہیں کہ اس وقت نہ کوئی نبی ہوتا ہے اور نہ ولی جیسا کہ اصحاب الفیل کے ہلاک کرنے کا نشان ظاہر ہوا۔ یہ تو مسلم ہے کہ ولی کی کرامت نبی متبوع کا معجزہ ہے پھر جبکہ کرامت بھی معجزہ ہوئی تو معجزات میں تفریق کرنا ایمانداروں کا کام نہیں۔ ماسوا اس کے حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ محدث بھی نبیوں اور رسولوں کی طرح خدا کے مرسلوں میں داخل ہے۔ بخاری میں وما ارسلنا من رسول ولا نبي ولا ﴿۵﴾ محدث کی قراءت غور سے پڑھو۔ اور نیز ایک دوسری حدیث میں ہے کہ علماء امتـی کـانبیاء بنی اسرائیل _صوفیا نے اپنے مکاشفات سے بھی اس حدیث کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تصحیح کی ہے۔ یہ بھی یادر ہے کہ مسلم میں مسیح موعود کے حق میں نبی کا لفظ بھی آیا ہے یعنی بطور مجاز اور استعارہ کے۔ اسی وجہ سے براہین احمدیہ میں بھی ایسے الفاظ خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے حق میں ہیں۔ دیکھو صفحہ ۴۹۸ میں یہ الہام ہے ۔ هو الذي ارسل رسوله بالهدى ۔ اس جگہ رسول سے مراد یہ عاجز ہے۔ اور پھر دیکھو صفحہ ۵۰۴ براہین احمدیہ میں یہ الہام جرى الله في حلل الانبیاء جس کا ترجمہ ہے خدا کا رسول نبیوں کے لباس میں ۔ اس الہام میں میرا نام رسول بھی رکھا گیا اور نبی بھی ۔ پس جس شخص کے خود خدا نے یہ نام رکھے ہوں اس کو عوام میں سے سمجھنا کمال درجہ کی شوخی ہے ۔ اور خدا کے نشانوں کی شہادتیں کسی طرح کمزور نہیں ہو سکتیں ۔ خواہ نبی کے ذریعہ سے