رازِ حقیقت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 261 of 550

رازِ حقیقت — Page 261

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۶۱ ايام الصلح دُعا کرنے والا مجھے پکارے تو میں اُس کی سنتا ہوں اور اپنے الہام سے اس کی کامیابی کی بشارت دیتا ہوں جس سے نہ صرف میری ہستی پر یقین آتا ہے بلکہ میرا قادر ہونا بھی بائیہ یقین پہنچتا ہے لیکن چاہیے کہ لوگ ایسی حالت تقویٰ اور خدا ترسی کی پیدا کریں کہ میں اُن کی آواز سنوں۔ اور نیز چاہئیے کہ وہ مجھ پر ایمان لاویں اور قبل اس کے جو اُن کو معرفتِ تامہ ملے اس بات کا اقرار کریں کہ خدا موجود ہے اور تمام طاقتیں اور قدرتیں رکھتا ہے کیونکہ جو شخص ایمان لاتا ہے اُسی کو عرفان دیا جاتا ہے۔ ایمان کی تعریف ۔ ایمان اس بات کو کہتے ہیں کہ اس حالت میں مان لینا کہ جبکہ ابھی علم کمال تک نہیں پہنچا تک نہیں پہنچا اور شکوک وشبہات سے ہنوز لڑائی ہے ۔ پس جو شخص ایمان لاتا ۔ ۔ ہے یعنی باوجود کمزوری اور نہ مہیا ہونے کل اسباب یقین کے اس بات کو اغلب احتمال کی وجہ سے قبول کر لیتا ہے وہ حضرت احدیت میں صادق اور راستباز شمار کیا جاتا ہے اور پھر اس کو موہبت کے طور پر معرفتِ تامہ حاصل ہوتی ہے اور ایمان کے بعد عرفان کا جام اس کو پلایا جاتا ہے۔اسی لئے ایک مرد متقی رسولوں اور نبیوں اور مامورین من اللہ کی دعوت کو سن کر ہر ایک پہلو پر ابتداء امر میں ہی حملہ کرنا نہیں چاہتا بلکہ وہ حصہ جو کسی مامور من اللہ کے منجانب اللہ ہونے پر بعض صاف اور کھلے کھلے دلائل سے سمجھ آ جاتا ہے اُسی کو ۳۲ اپنے اقرار اور ایمان کا ذریعہ ٹھہرا لیتا ہے اور وہ حصہ جو سمجھ نہیں آتا اُس میں سنتِ صالحین کے طور پر استعارات اور مجازات قرار دیتا ہے ۔ اور اس طرح تناقض کو درمیان سے اُٹھا کر صفائی اور اخلاص کے ساتھ ایمان لے آتا ہے تب خدا تعالیٰ اُس کی حالت پر رحم کر کے اور اس کے ایمان پر راضی ہو کر اور اُس کی دعاؤں کوسن کر معرفتِ تامہ کا دروازہ اُس پر کھولتا ہے اور الہام اور کشوف کے ذریعہ سے اور دوسرے آسمانی نشانوں کے وسیلہ سے یقین کامل تک اُس کو پہنچاتا ہے لیکن متعصب آدمی جو عناد سے پر ہوتا ہے ایسا نہیں کرتا اور وہ ان اُمور کو جو حق کے پہچاننے کا ذریعہ ہو سکتے ہیں تحقیر اور توہین کی نظر سے دیکھتا ہے اور ٹھٹھے اور ہنسی میں اُن کو اُڑا دیتا ہے اور وہ امور جو ہنوز اس پر مشتبہ ہیں اُن کو اعتراض کرنے کی دستاویز بناتا ہے اور ظالم طبع لوگ ہمیشہ ایسا ہی کرتے رہے ہیں۔