رازِ حقیقت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 260 of 550

رازِ حقیقت — Page 260

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۶۰ ايام الصلح جیسا کہ وہ فرماتا ہے أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ لے پھر جبکہ خدا تعالیٰ نے دُعا کی قبولیت کو اپنی ہستی کی علامت ٹھہرائی ہے تو پھر کس طرح کوئی عقل اور حیا والا گمان کر سکتا ہے کہ دُعا کرنے پر کوئی آثار صریحہ اجابت کے مترتب نہیں ہوتے اور محض ایک رسمی امر ہے جس میں کچھ بھی روحانیت نہیں؟ میرے خیال میں ہے کہ ایسی بے ادبی کوئی سچے ایمان والا ہرگز نہیں کرے گا جبکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ جس طرح زمین و آسمان کی صفت پر غور کرنے سے سچا خدا پہچانا جاتا ہے اسی طرح دعا کی قبولیت کو دیکھنے سے خدا تعالیٰ پر یقین آتا ہے۔ پھر اگر دعا میں کوئی روحانیت نہیں اور حقیقی اور واقعی طور پر دُعا پر کوئی نمایاں فیض نازل نہیں ہوتا تو کیونکر دُعا خدا تعالیٰ کی شناخت کا ایسا ذریعہ ہو سکتی ہے جیسا کہ زمین و آسمان کے اجرام و اجسام ذریعہ ہیں؟ بلکہ قرآن شریف سے تو معلوم ہوتا ہے کہ نہایت اعلیٰ ذریعہ خدا شناسی کا دُعا ہی ہے اور خدا تعالیٰ کی ہستی اور صفات کاملہ کی معرفت تامہ یقینیہ کاملہ صرف دُعا سے ہی حاصل ہوتی ہے اور کسی ذریعہ سے حاصل نہیں ہوتی ۔ وہ امر جو ایک بجلی کی چمک ۳۱ کی طرح یک دفعہ انسان کو تاریکی کے گڑھے سے کھینچ کر روشنی کی کھلی فضا میں لاتا اور خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑا کر دیتا ہے وہ دعا ہی ہے۔ دعا کے ذریعہ سے ہزاروں بدمعاش صلاحیت پر آ جاتے ہیں۔ ہزاروں بگڑے ہوئے درست ہو جاتے ہیں۔ ہاں دعا کی راہ میں دو بڑے مشکل امر ہیں جن کی وجہ سے اکثر دلوں سے عظمت دعا کی پوشیدہ رہتی ہے (۱) اول تو شرط تقویٰ اور راستبازی اور خدا ترسی ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ " یعنی اللہ تعالیٰ پر ہیز گار لوگوں کی دعا قبول کرتا ہے۔ اور پھر فرماتا ہے وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ یعنی جب میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں کہ خدا کے وجود پر دلیل کیا ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ میں بہت نزدیک ہوں یعنی کچھ بڑے دلائل کی حاجت نہیں۔ میرا وجود نہایت اقرب طریق سے سمجھ آ سکتا ہے اور نہایت آسانی سے میری ہستی پر دلیل پیدا ہوتی ہے اور وہ دلیل یہ ہے کہ جب کوئی ل النمل: ٦٣ ٢ المآئدة : ۲۸ - البقرة : ۱۸۷