رازِ حقیقت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 258 of 550

رازِ حقیقت — Page 258

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۵۸ ايام الصلح ☆ غرض ہمارے اندرونی مخالفوں نے کسی پہلو سے فائدہ نہ اٹھایا اور وہ سب کام کر دکھائے جو یہودیوں نے کئے تھے۔ وہ اعتراض جو بار بار ہم پر کیا گیا وہ یہی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ان کا ذہنی مہدی یا مسیح خونریزوں کے طور پر آئے گا مگر یہ شخص لڑائیوں اور خونریزیوں سے منع کرتا ہے۔ اس کا بار بار جواب دیا گیا کہ یہ خیال سرا سر غلط ہے بلکہ يَضَعُ الْحَرب کی حدیث سے بکمال وضوح ثابت ہے ۲۹ کہ مسیح موعود خونریزوں کے رنگ میں ہرگز نہیں آئے گا اور صرف معارف اور حقائق اور نشانوں سے اتمام حجت کرے گا اور امن کے ساتھ حق کو پھیلائے گا۔ یہ باتیں ایسی صاف تھیں کہ قرآن اور حدیث پر غور کرنے سے کمال آسانی سے سمجھ آ سکتی تھیں ۔ مگر پُرانے خیالات جو عادات راسخہ ہو گئے تھے غافل دلوں سے نکل نہ سکے ۔ یہ تو سچ ہے کہ ہمارا مقصد صرف اسی قدر ہے کہ نرمی اور ملائمت سے لوگوں کے دھو کے دور کریں اور نوع انسان سے خواہ وہ عیسائی ہوں یا ہندو یا یہودی ہمدردی سے پیش آویں اور دلائل عقلیہ اور آیات سماویہ کی روشنی سے اُن کو دکھلاویں کہ وہ اپنے اعتقادات میں غلطی پر ہیں۔ اگر ہمارے اس طریق اور طرز سے ہمارے مخالف مسلمان ناراض ہیں اور کسی سخت گیر خونریز کا انتظار کرتے ہیں تو یہ اُن کی غلطی ہے اور ایسے خیال سے وہ قرآن اور حدیث سے دُور جا پڑے ہیں۔اب یہ زمانہ ہے کہ ہم ہر ایک قوم کو اپنی اخلاقی حالت دکھلاویں اور اُن کے ظلم برداشت کریں اور آپ ظالمانہ حملہ ان پر نہ کریں ۔ اخلاقی حالت بھی ایک معجزہ ہے اور بردباری سے زندگی بسر کرنا ایک آسمانی نشان ہے۔ اور جب ہم کسی دوسری قوم سے احسان دیکھیں تب تو زیادہ تر فرض ہو جاتا ہے کہ ہم احسان کے عوض میں ہمارے علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ مہدی کے ہاشمی یا سید ہونے کے بارے میں جس قدر حدیثیں ہیں وہ سب مجروح ہیں اور خود جب وقت آ جائے اور صاحب وقت نہ آئے تو یہی دلیل اس بات پر ہے کہ وہ قصہ صیح نہیں ہے یا اس کے اور معنی ہیں جو منصف کو ماننے پڑتے ہیں جیسا کہ ہم ایک قبر کو کھود کر نہ بہشت کی کھڑ کی اس کے پاس دیکھتے ہیں نہ دوزخ کی ، ناچار ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ اس پیشگوئی کے اور معنے ہیں جو عالم ظاہر سے تعلق نہیں رکھتے ۔ منہ