رازِ حقیقت — Page 257
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۵۷ ايام الصلح کے لئے میں مامور ہوں تو کیا ایسا دعویٰ غیر محل پر تھا ؟ اور کیا ضرور نہ تھا کہ ان خطرناک فتنوں کے وقت میں وہ خدا جو اسلام کو ذلت کی حالت میں دیکھ نہیں سکتا آسمان سے کوئی سلسلہ قائم کرتا اور اس مجروح اور زخمی کے لئے کوئی آسمانی مرہم نازل فرماتا ؟ کیا یہ تعجب کی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کے رحم نے تقاضا کیا کہ ایسے ضعف اور ذلّت کے وقت میں اسلام کی خبر لے؟ کیا اس سے بڑھ کر کسی اور وقت کا انتظار کرو گے؟ اور اس چودھویں صدی کو کسی مجدد کے آنے سے بے نصیب قرار دے کر کسی اور نامعلوم صدی کی انتظار میں رہو گے؟ کیا یہ تقویٰ کا طریق ہے کہ باوجود یکہ صدی میں سے چودہ سال بھی گزر گئے اور صلیبی فتنے دائرے کی طرح محیط ہو گئے مگر پھر بھی اعتقاد یہ ہو کہ آنے والا اب تک نہ آیا اور بد قسمت چودھویں صدی کسی معمولی مجدد سے بھی خالی رہی اور اگر آیا تو ایک دجال آیا ؟ کیا یہی امانت ہے کہ ایسے خیالات رکھے جائیں کہ چودھویں صدی تو مجدد سے خالی گئی اور کسوف خسوف رمضان کا مہدی کے ظہور سے خالی گیا ۔ اور صلیبی فتنوں کا زمانہ مسیح موعود کے ظہور سے خالی رہا گو یا نعوذ باللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تینوں پیشگوئیاں جھوٹی نکلیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی میں یہ بھی تھا کہ مسیح موعود کے وقت میں اونٹ بیکار ہو جائیں گے یہ ریل کی طرف اشارہ تھا۔ سوریل کے جاری ہونے پر بھی پچاس سال گزر گئے مگر ہمارے مخالفوں کا فرضی مسیح اب تک نہیں آیا۔ اللہ اکبر ۔ یہ لوگ کیسے دل کے سخت ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں سے یوں انکار کیا اور میری پیشگوئیوں میں سے وہ پیشگوئیاں جو نظری طور پر پوری ہوئیں اُن کی نسبت کہتے ہیں کہ جھوٹی نکلیں اور جو بد یہی طور پر پوری ہوئیں اُن کی نسبت یہ خیال ہے کہ نجوم یا رمل سے کام لیا گیا۔ اور یا کسی مجرمانہ سازش سے پوری کی گئیں یہ دونوں طریق پیشگوئیوں کے پوری ہونے کے قدیم سے سنت الہی ہیں ۔ تمام انبیاء علیہم السلام کی پیشگوئیاں کبھی تو نظری طور پر یعنی استعارات کے پیرایہ میں یا کسی اور دقیق التزام سے پوری ہوئیں اور یا بد یہی طور پر پوری ہوئیں ۔ منہ