پُرانی تحریریں — Page 425
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۱۱ شحنه حق وغیرہ کو آگ پر ڈالنے سے آگ میں سے اٹھتے ہیں اور ہوا میں جا ملتے ہیں ۔ جو وایو د ہوتا ہے اور پھر اندر دیوتا یعنی کرہ زمہریر تک اس کا اثر پہنچتا ہے اور پھر دھرتی دیوتا پر اس کا اثر پڑتا ہے ۔ یہ تو اس شرقی کا مضمون ہے اور لفظی صنعت اس میں یہ ہے کہ آگ کو جس کا رنگ تاباں و درخشاں ہے رہنا رہا تھا یعنی جواہر دار قرار دے دیا ہے کیونکہ آگ کی چمک کو جواہرات کی چمک سے ایک مناسبت ہے گویا اگنی ایک جو ہر دار اور دولت مند دیوتا ہے جس کے پاس اس قدر جواہر ہیں جو دوسرے دیوتاؤں کو نذریں دیتا ہے ۔ اب میں کہتا ہوں کہ یہ تناسب شاعرانہ تو سب ہوئے مگر کیا اس شرقی میں پر میشر کا کہیں ذکر بھی ہے اے آر یو کچھ انصاف کرو ایمانا اپنی کانشنس سے ہی پوچھ کر دیکھو کہ بجز اس با قرینہ معنوں کے کوئی اور بھی اس کے معنے بن سکتے ہیں ہرگز گز نہیں بن سکتے کیونکہ اگر اگنی سے پرمیشر مراد ہے تو پھر وہ دوسرے دیوتے کون سے ہیں جن کو پرمیشر نذریں پہنچاتا ہے اور نیز اس صورت میں شعر کا بھی ستیا ناس ہو جائے گا کیونکہ اس نازک خیال شاعر نے آگ کو باعتبار چمکتے ہوئے رنگ کے ایک جواہر دار سے تشبیہ دی ہے جیسا کہ آگ کو جواہر تاباں سے اور شاعر بھی تشبیہ دیتے آئے ہیں ۔ شیخ سعدی مرحوم نے بھی ایک شعر میں آتش کو جواہرات سے تشبیہ دے دی ہے ۔ پس اگر ہم اگنی سے مراد آگ نہ لیں بلکہ پر میشر مرا د لیں تو اس ساری لطافت کی مٹی پلید ہو گی لیکن ہم کسی طرح اگنی سے مراد پر میشر نہیں لے سکتے کیونکہ اس سے آگے آنے والی شرتیوں سے اور بھی ویدوں کا بھانڈا پھوٹ گیا ہے ۔ دیکھو اسی اگنی کی دوسری تعریف