پُرانی تحریریں — Page 13
روحانی خزائن جلد ۲ الله پرانی تحریریں اور ثبوت کبری کا یعنی اس قضیہ کا کہ ہر ایک کمال ذات باری کو حاصل ہے اس جھوٹ ہے ؟ طرح پر ہے کہ اگر بعض کمالات ذات باری کو حاصل نہیں تو اس صورت میں یہ سوال ہوگا کہ محرومی ان کمالات سے بخوشی خاطر ہے یا یہ مجبوری ہے۔ اگر کہو کہ بخوشی خاطر ہے تو یہ ہے کیونکہ کوئی شخص اپنی خوشی سے اپنے کمال میں نقص روا نہیں رکھتا اور نیز جا جبکہ یہ صفت قدیم سے خدا کی ذات سے قطعاً مفقود ہے تو خوشی خاطر کہاں رہی۔ اور اگر کہو کہ مجبوری سے تو وجود کسی اور قاسر کا ماننا پڑا جس نے خدا کو مجبور کیا اور نفاذ اختیارات خدائی سے اس کو روکا یا یہ فرض کرنا پڑا کہ وہ قاسر اس کا اپنا ہی ضعف اور ناتوانی ہے کوئی خارجی قاسر نہیں۔ بہر حال وہ مجبور ٹھہرا تو اس صورت میں وہ خدائی کے لائق نہ رہا۔ پس بالضرورت اس سے ثابت ہوا کہ خدا وند تعالی داغ مجبوری سے کہ بطلان الوہیت کو مستلزم ہے پاک اور منزہ ہے اور صفت کا ملہ خالقیت اور عدم سے پیدا کرنے کی اس کو حاصل ہے اور یہی مطلب تھا۔ دلیل پنجم - فرقان مجید : مجید میں خالقیت باری تعالیٰ پر بمادہ قیاس استثنائی قائم کی گئی ہے اور قیاس استثنائی اس قیاس کو کہتے ہیں کہ جس میں عین نتیجہ یا نقیض اس کی بالفعل موجود ہو اور دو مقدموں سے مرکب ہو یعنی ایک شرطیہ اور دوسرے وضعیہ سے چنانچہ آیت شریف جو اس قیاس پر متضمن ہے یہ ہے۔ دیکھو سورہ الزمرجز و ۲۳ يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهْتِكُمْ خَلْقًا مِنْ بَعْدِ خَلْقٍ فِي ظُلُمَةٍ ثَلْثٍ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ کے یعنی وہ تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں تین اندھیرے پردوں میں پیدا کرتا ہے اس ما حکمت حکمت کاملہ کا سے کہ ایک پیدائش اور قسم کی اور ایک اور قسم کی بناتا ہے یعنی ہر عضو کو صورت مختلف اور خاصیتیں اور طاقتیں الگ الگ بخشا ہے۔ یہاں تک کہ قالب بے جان میں جان ڈال دیتا ہے نہ اس کو اندھیرا کام کرنے سے روکتا ہے اور نہ مختلف قسموں اور خاصیتوں کے اعضا بنانا اس پر مشکل ہوتا ہے اور نہ سلسلہ پیدائش کے ہمیشہ الزمر : 4