پُرانی تحریریں — Page 12
روحانی خزائن جلد ۲ اله پرانی تحریریں اس کی ذات میں جمع ہیں۔ لہذا نیست سے ہست کرنے پر بھی وہ قادر ہے۔ کیونکہ نیست سے ہست کرنا قدرتی کمالات سے ایک اعلیٰ کمال ہے اور ترتیب مقدمات اس قیاس کی بصورت شکل اوّل کے اس طرح پر ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ پیدا کرنا اور محض اپنی قدرت سے وجود بخشنا ایک کمال ہے اور سب کمالات ذات کامل واجب الوجود کو حاصل ہیں ۔ پس نتیجہ یہ ہوا کہ نیست سے ہست کرنے کا کمال بھی ذات باری کو حاصل ہے۔ ثبوت مفہوم صغری کا یعنی اس بات کا کہ محض اپنی قدرت سے پیدا کرنا ایک کمال ہے اس طرح پر ہوتا ہے کہ نقیض اس کی یعنی یہ امر کہ محض اپنی قدرت سے پیدا کرنے میں عاجز ہونا جب تک باہر سے کوئی مادہ آ کر معاون اور مددگار نہ ہو ایک بھاری نقصان ہے کیونکہ اگر ہم یہ فرض کریں کہ مادہ موجودہ سب جا بجا خرچ ہو گیا تو ساتھ ہی یہ فرض کرنا پڑتا ہے کہ اب خدا پیدا کرنے سے قطعاً عاجز ہے حالانکہ ایسا نقص اس ذات غیر محدود اور قادر مطلق پر عائد کرنا گویا اس کی الوہیت سے انکار کرنا ہے۔ سوائے اس کے علم الہیات میں یہ مسئلہ بدلائل ثابت ہو چکا ہے کہ مجمع الکمالات ہونا واجب الوجود کا تحقق الوہیت کے واسطے شرط ہے یعنی یہ لازم ہے کہ کوئی مرتبہ کمال کا مراتب ممكن التصور سے جو ذہن اور خیال میں گزرسکتا ہے اس ذات کامل سے فوت نہ ہو۔ پس بلا شبہ عقل اس بات کو چاہتی ہے کہ کمال الوہیت باری تعالیٰ کا یہی ہے کہ سب موجودات کا سلسلہ اسی کی قدرت تک منتہی ہو نہ یہ کہ صفت قدامت اور ہستی حقیقی کے بہت سے شریکوں میں بٹی ہوئی ہو اور قطع نظر ان سب دلائل اور براہین کے ہر ایک سلیم الطبع سمجھ سکتا ہے کہ اعلیٰ کام بہ نسبت ادنی کام کے زیادہ تر کمال پر دلالت کرتا ہے پس جس صورت میں تالیف اجزاء عالم کمال الہی میں داخل ہے تو پھر پیدا کرنا عالم کا بغیر احتیاج اسباب کے جو کروڑ ہا درجہ زیادہ تر قدرت پر دلالت کرتا ہے کس قدر اعلیٰ کمال ہوگا۔ پس صغری اس شکل کا بوجہ کامل ثابت ہوا۔