پُرانی تحریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 548

پُرانی تحریریں — Page 10

روحانی خزائن جلد ۲ پرانی تحریریں خالق کیسے ہو۔ اس آیت شریف میں یہ استدلال لطیف ہے کہ ہر پنج شقوق قدامت ارواح کو اس طرز مدلل سے بیان فرمایا ہے کہ ہر ایک شق کے بیان سے ابطال اس شق کافی الفور سمجھا جاتا ہے اور تفصیل ان اشارات لطیفہ کی یوں ہے کہ شق اول یعنی ایک شے معدوم کا بغیر فعل کسی فاعل کے خود بخود پیدا ہو جانا اس طرح پر باطل ہے کہ اس سے ترجیح بلا مرجع لازم آتی ہے کیونکہ عدم سے وجود کا لباس پہننا ایک موثر مرجح کو چاہتا ہے جو جانب وجود کو جانب عدم پر ترجیح دے لیکن اس جگہ کوئی مؤثر مرجح موجود نہیں اور بغیر وجود مرجح کے خود بخودتر بیج پیدا ہو جانا محال ہے۔ اور شق دوم یعنی اپنے وجود کا آپ ہی خالق ہونا اس طرح پر باطل ہے کہ اس سے تقدم شے کا اپنے نفس پر لازم آتا ہے کیونکہ اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ ہر ایک شے کے وجود کی علت موجبہ اس شے کا نفس ہے تو بالضرورت یہ اقرار اس اقرار کو مستلزم ہوگا کہ وہ سب اشیاء اپنے وجود سے پہلے موجود تھیں اور وجود سے پہلے موجود ہونا محال ہے۔ اور شق سوم یعنی ہر ایک شے کا مثل ذات باری کے علت العلل اور صانع عالم ہونا تعدد خداؤں کو مستلزم ہے اور تعدد خداؤں کا باتفاق محال ہے اور نیز اس سے دور یا تسلسل لازم آتا ہے اور وہ بھی محال ہے۔ اور شق چہارم یعنی محیط ہونا نفس انسان کا علوم غیر متناہی پر اس دلیل سے محال ہے که نفس انسانی با عتبار تعین تشخص خارجی کے متناہی ہے اور متناہی میں غیر متناہی سما نہیں سکتا اس سے تحدید غیر محدود کی لازم آتی ہے۔ اور شق پنجم یعنی خود مختار ہونا اور کسی کے حکم کے ماتحت نہ ہونا ممتنع الوجود ہے۔ کیونکہ نفس انسان کا بضرورت استکمال ذات اپنی کے ایک مکمل کا محتاج ہے اور محتاج کا خود مختار ہونا محال ہے اس سے اجتماع سے اجتماع نقیضین | ع نقیضین لازم آتا ہے پس جبکہ بغیر ذریعہ خالق موجودات کا بہر صورت ممتنع اور محال ہوا تو بالضرور یہی ماننا پڑا کہ کے موجود ہونا