پُرانی تحریریں — Page 9
روحانی خزائن جلد ۲ ۹ پرانی تحریریں سے کہ جیسے جنون یا مموری ہے سالم الحال نہیں رہ سکتا بلکہ فی الفور اس کی قوتوں اور طاقتوں میں تنزل واقع ہو جاتا ہے۔ اسی طرح بذاتہ ادراک جزئیات نہیں کر سکتا جیسا کہ اس کو شیخ محقق بوعلی سینا نے نمط سابع اشارات میں بتصریح لکھا ہے۔ حالانکہ عند العقل ممکن تھا کہ ان سب آفات اور عیوب سے بچا ہوا ہوتا ۔ پس جن جن مراتب اور فضائل کو انسان اور اس کی روح کے لئے عقل تجویز کر سکتی ہے وہ کس بات سے ان مراتب سے محروم ہے آیا تجویز کسی اور مجوز سے یا خود اپنی رضامندی سے۔ اگر کہو کہ اپنی رضامندی سے تو یہ صریح خلاف ہے کیونکہ کوئی شخص اپنے حق میں نقص روا نہیں رکھتا۔ اور اگر کہو کہ تجویز کسی اور مجوز سے تو مبارک ہو کہ وجود خالق ارواح اور اجسام کا ثابت ہو گیا اور یہی مدعا تھا۔ دلیل سوم قياس الخلف ہے اور قیاس الخلف اس قیاس کا نام ہے کہ جس میں اثبات مطلوب کا بذریعہ ابطال نقیض اس کے کے کیا جاتا ہے اور اس قیاس کو علم منطق میں خلف اس جہت سے کہتے ہیں کہ خلف لغت میں بمعنی باطل کے ہیں اور اسی طرح اس قیاس میں اگر مطلوب کو کہ جس کی حقیقت کا دعوی ہے سچا نہ مان لیا جائے تو نتیجہ ایسا نکلے گا جو باطل کو مستلزم ہوگا اور قیاس مذکور یہ ہے دیکھو سورہ الطور الجزو ۲۷۔ اَمْ خُلِقَوْا مِنْ غَيْرِ شَيْ أَمْ هُمُ الْخُلِقُونَ أَمْ خَلَقُوا السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ بَلْ لَّا يُوْقِنُوْنَ أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَّيْطِرُونَ یعنی کیا یہ لوگ جو خالقیت خدائے تعالیٰ سے منکر ہیں بغیر پیدا کرنے کسی خالق کے یونہی پیدا ہو گئے یا اپنے وجود کو آپ ہی پیدا کر لیا یا خود علت العلل ہیں جنہوں نے زمین و آسمان پیدا کیا یا ان کے پاس غیر متناہی خزانے علم اور عقل کے ہیں جن سے انہوں نے ان سے معلوم کیا کہ ہم قدیم الوجود ہیں یا وہ آزاد ہیں۔ اور کسی کے قبضہ قدرت میں مشہور نہیں ہیں تا یہ گمان ہو کہ جبکہ ان پر کوئی غالب اور قہار ہی نہیں تو وہ ان کا الطور : ۳۶ تا ۳۸