نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 69 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 69

روحانی خزائن جلد ۸ ५१ نور الحق الحصة الأولى فتى الله الذي أشار الله في كتابه إلى حياته، وفرض علينا أن نؤمن بأنه مرد خدا میں را ہے جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہو گیا ہے کہ ہم اس بات پر ایمان لاویں حى في السماء ولم يمت وليس من الميتين۔ کہ وہ زندہ آسمان میں موجود ہے اور مردوں میں سے نہیں۔ و أما نزول عيسى من السماء فقد أثبتنا بطلانه في كتابنا الحمامة مگر یہ بات کہ حضرت عیسی" آسمان سے نازل ہوں گے سو ہم نے اس خیال کا باطل ہونا اپنی کتاب حمامۃ البشری وخلاصته أنا لا نجد في القرآن شيئا في هذا الباب من غير خبر وفاته الذي میں بخوبی ثابت کر دیا ہے اور خلاصہ اس کا یہ ہے کہ ہم قرآن میں بغیر وفات حضرت عیسی کے اور کچھ ذکر نہیں پاتے اور نجدها في مقامات كثيرة من الفرقان الحميد۔ نعم جاء لفظ النزول في وفات کا ذکر نہ ایک جگہ بلکہ کئی مقامات میں پاتے ہیں۔ ہاں بعض احادیث میں نزول کا بعض الأحاديث، ولكنه لفظ قد كثر استعماله في لسان العرب على نزول لفظ آیا ہے لیکن لفظ ایسا ہے کہ زبان عرب میں اکثر استعمال اس کے المسافرين إذا نزلوا من بلدة ببلدة أو من مُلک بملک متغربين۔ مسافروں کے حق میں ہے جب وہ ایک شہر سے دوسرے شہر میں وارد ہوں اور یا ایک ملک سے دوسرے والنزيل هو المسافر كما لا يخفى على العالمين۔ وہ ملک میں سفر کر کے آویں اور نزیل تو مسافر کو ہی کہتے ہیں جیسا کہ جاننے والوں پر پوشیدہ نہیں۔ وأما لفظ التوفي الذي يوجد في القرآن في حق المسيح مگر توفی کا لفظ جو قرآن میں حضرت مسیح اور دوسروں کے حق میں پایا جاتا ہے سواس میں بغیر معنے مارنے کے و غيره من بنی آدم فلا سبيل فيه إلى تأويل أخرى بغير الإماتة، وأخذنا اور کوئی تاویل نہیں سکتی اور یہ مارنے کے ہم نے معناه من النبي ومن أجل الصحابة لا من عند أنفسنا ۔ وأنت تعلم ﴿۵۱﴾ ہو معنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اُس کے بزرگ صحابہ سے لئے ہیں یہ نہیں کہ اپنی طرف سے گھڑے ہیں اور تو جانتا ہے کہ