نورالحق حصہ اوّل — Page 70
روحانی خزائن جلد ۸ ۷۰ نور الحق الحصة الأولى أن الإماتة أمر ثابت دائم داخل في سنن الله القديمة، وما من رسول إلا مارنا ایک امر ثابت دائم الوقوع اور خدا تعالیٰ کی قدیم سنتوں میں داخل ہے اور کوئی نبی ایسا نہیں جو توفى وقد خلت من قبل عيسى الرسل۔ فإذا تعارض لفظ التوفى ولفظ فوت نہ ہوا ہو اور حضرت عیسی سے پہلے جو نبی آئے وہ فوت ہو چکے ہیں اور جبکہ لفظ نزول النزول۔ فإن سلمنا وفرضنا صحة الحديث فلا بد لنا أن نؤوّل لفظ اور لفظ توفی میں معارضہ واقع ہوا پس اگر ہم حدیث کی صحت کو قبول کر لیں تاہم ہمارے لئے ضروری ہے کہ النزول، فإنه ليس بـمـوضوع لنزول رجل من السماء ، بل وضع نزول کے لفظ کی تاویل کریں کیونکہ وہ دراصل آسمان سے اترنے کے معنوں کے لئے موضوع نہیں ہے بلکہ وہ تو لنزول مسافر من أرض بأرض، فما كان لنا أن نترك معنى وضع له هذا مسافروں کے نزول کے لئے وضع کیا گیا ہے سو یہ تو ہم سے نہیں ہو سکتا کہ اصل موضوع لہ کو چھوڑ دیں اللفظ في لسان العرب ونردّ بينات القرآن۔ وما نجد ذكر السماء في اور قرآن کی بینات کو کریں اور ہم کسی حدیث صحیح میں آسمان حديث صحيح، وما نجد نظير النزول في أمم أولى ، بل يثبت خلافه کا لفظ بھی نہیں پاتے اور ہم اس نزول کی نظیر پہلی امتوں میں بھی نہیں پاتے بلکہ في قصة يوحنا ۔ فلا شك أن هذه العقيدة۔ أعنى عقيدة نزول المسيح قصه یوحنا میں اس کے خلاف پاتے ہیں پس کچھ شک نہیں کہ اس عقیدہ کو نہ ایک بیماری بلکہ کئی الفائدة قال الله تعالى إِنَّ هَذَا لَفِي الصُّحُفِ الأولى صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى! قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ پہلی کتابوں یعنی توریت اور صحف ابراہیم میں شواہد تعلیم قرآن موجود ولكنا لا نجد ذکر صعود عیسی و ذکر نزوله في التوراة ولا مثالا يشابهه و ان التوراة ہیں مگر ہم توریت میں حضرت عیسی کے صعود اور نزول کا کچھ نشان نہیں پاتے اور نہ اس کی کوئی مثال پاتے ہیں حالانکہ امام لذكر الامثلة كلها ولاجل ذلك سماه الله اماما فی کتاب مبین۔ منه توریت تمام مثالوں کے لئے امام ہے اسی لئے خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اس کا نام امام رکھا ہے۔ الاعلى: ۲۰،۱۹ رو