نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 66 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 66

روحانی خزائن جلد ۸ ५५ نور الحق الحصة الأولى فليتدبر في هذا المقام كل عاقل حفظه الله تعالى عن الحمق پس اس مقام میں ہر یک عاقل جس کو خدا نے حمق اور سفاہت اور بدوں کی خصلتوں سے نگاہ رکھا ہو وصــانــه عن السفاهة وسير اللئام - ليظهر عليه حقيقة جهاد الإسلام، فکر کرے اور سوچے تا کہ اس پر اسلامی جہاد کی حقیقت ظاہر ہو اور چاہے کہ دیکھے کہ اس جہاد میں ظلم ولينظر أين أثر الظلم في هذا الجهاد، وأين إيذاء المحسن ذي الإنعام؟ کا نشان کہاں ہے اور کہاں کسی محسن کو دکھ دیا گیا ہے بلکہ ان دنوں میں تو اسلام کا سر کچلنے کی جگہ میں بل كان رأس الإسلام فى تلك الأيام معرضًا لدوس الأقدام، وقد پڑا ہوا تھا اور مسلمانوں پر ایسی مصیبتیں پڑی ہوئی تھیں کہ ان مصیبتوں کا قصہ آنکھوں وردت على المسلمين مصائب إلى حد يُجرى الدموع قصتها من ہے !!! جو خدا سے ورد سے سے ڈرے اور سوچے یا ہے یہ سے آنسو جاری کر دیتا ہے اور دلوں کو کی آگ بریان کرتا ہے المقلتين وتشوى القلوب بنار الآلام۔ فهل من منصف ينظرها ويخاف پس کوئی منصف که قهر الرب العلام، أم انعدم الإنصاف من قلوب المخالفين؟ هذا هو انصاف مخالفوں کے دلوں اٹھ ہی گیا اور یہی بات الحق ولا نخبء الحق ولا نستره، والنفاق عندنا أكبر الذنوب حق ہے اور ہم حق کو پوشیدہ نہیں کرتے اور نہ چھپاتے ہیں اور نفاق ہمارے نزدیک سب گناہوں سے بڑا ہے اور والرياء أخطر الخطوب، ومِن سِيرِ الظالمين المشركين۔ ریا سب کاموں سے زیادہ خطر ناک ہے اور ظالموں اور مشرکوں کی صفات میں سے ہے۔ فخلاصة قولنا إن مسألة الغزوة والجهاد ليست محور الإسلام پس ہمارے قول کا خلاصہ یہ ہے کہ مسئلہ دینی لڑائی اور جہاد کا کچھ ایسا مسئلہ نہیں جس کو اسلام کا محور اور واستقسه كما فهمه الجاهلون المخالفون أو المتجاهلون من المسلمين استفس کہا جائے جیسا کہ جاہل مخالف سمجھتے ہیں یا جیسا کہ بناوٹ سے جاہل بننے والے بعض مسلمان خیال کرتے ہیں