نورالحق حصہ اوّل — Page 64
روحانی خزائن جلد ۸ ۶۴ نور الحق الحصة الأولى وقد بينا لك أن الحرب ليس من أصل مقاصد القرآن ولا من جذر اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ لڑائی اور جہاد اصل مقاصد قرآن میں سے نہیں اور وہ صرف ضرورت کے تعليمه، وإنما هو جوز عند اشتداد الحاجة وبلوغ ظلم الظالمين إلى انتهائه وقت تجویز کیا گیا ہے یعنی ایسے وقت میں جبکہ ظالموں کا ظلم انتہا تک واشتعال جور الجائرين ۔ و لكم أسوة حسنة في غزوات رسول الله صلى پہنچ جائے اور پیروی کرنے کے لئے طریق عمل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم الله عليه وسلم، كيف صبر على ظلم الكفار إلى مدة يبلغ فيه صبي إلى سن بہتر ہے دیکھو کس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے ایذا پر اس زمانہ تک صبر کیا جس میں ایک بچہ بلوغه، فصبر ۔ وكان الكفار يؤذونه في الليل والنهار۔ ينهبون أموال اپنے سن بلوغ کو پہنچ جاتا ہے اور کافر لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ دکھ دیتے اور رات دن ستاتے اور المؤمنين كالأشرار، ويقتلون رجالهم ونساء هم بتعذيبات تتحدر بتصورها شریروں کی طرح ان کے مالوں کو لوٹتے اور مسلمانوں کے مردوں اور عورتوں کو قتل کرتے اور ایسے بڑے بڑے دموع العيون وتقشعر قلوب الأخيار، وكذلك بلغ الإيذاء إلى انتهائه عذابوں سے مارتے کہ ان کے یاد کرنے سے آنکھوں کے آنسو جاری ہوتے ہیں اور نیک آدمیوں کے دل کا نپتے ہیں اور حتى هموا بقتل نبي الله، فأمره ربّه أن يترك وطنه ويهرب إلى المدينة اسی طرح دیکھ انتہا کو پہنچ گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وطن سے نکالے گئے یہاں تک کہ ان لوگوں نے مهاجرا من مكة، فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم من وطنه بإخراج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کرنے کا قصد کیا سواس کے رب نے اس کو حکم دیا تا وہ مدینہ بھاگ جائے سو آنحضرت قومه۔ ومع ذلك ما كان الكفار منتهين، بل لم يزل الفتن منهم تستعر، اپنے وطن سے کفار کے نکالنے سے ہجرت کر گئے اور ابھی کفار نے ایذا رسانی میں بس نہیں کی تھی بلکہ وہ فتنے ومحجة الدعوة تَعرُّ، حتى جلبوا على رسول الله صلى الله بھڑکاتے اور دعوت کے کاموں میں مشکلات ڈالتے یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر