نورالحق حصہ اوّل — Page 63
روحانی خزائن جلد ۸ ۶۳ نور الحق الحصة الأولى مددگاروں میں سے ہیں ؟ تخرجنا من أوطاننا؟ أو يجعل الناس نصارى ظلما وجبرًا؟ كلا بل إنها ہمیں ہمارے وطنوں سے نکالتی ہے یا لوگوں کو جبر اور ظلم سے عیسائی بناتی ہے ہرگز نہیں بلکہ وہ ہمارے لئے برية من كل هذه الإلزامات، بـل هـي لنا من المعينين۔ ثم انظر إلى ہیں پھر قرآن کے ان حکموں پر نظر ڈالو جن میں خدا تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں ان أحكام علمنا القرآن للذين أحسنوا إلينا، وراعوا شؤوننا وكفلوا کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہیے جو ہم پر احسان کریں اور ہمارے کاموں کی رعایت رکھیں اور ہماری حاجات کے شجوننا، ومانونا وآوَونا، بعدما كنا تائهين۔ أيمنعنا ربنا من أن نحسن متکفل ہو جائیں اور ہمارے بوجھوں کو اٹھا لیں اور ہمیں پریشان گردی کے بعد اپنی پناہ میں لے آویں کیا خدا تعالیٰ ہم کو إلى المحسنين ونشكر المنعمين؟ كلا بل القرآن يأمر بالقسط اس سے منع کرتا ہے کہ ہم نیکی کرنے والوں کے ساتھ نیکی کریں اور دلی نعمتوں کا شکر ادا کریں ہرگز نہیں بلکہ وہ تو انصاف والعدل والإحسان والله يحب المقسطين۔ وقد قال في القرآن وَلْتَكُن اور عدل اور احسان کرنے کے لئے فرماتا ہے اور وہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ اور قرآن میں اس نے یہ مِنْكُمْ أُمَّةً يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ فرمایا ہے کہ تم میں سے ہمیشہ ایسے لوگ ہوتے رہیں جو نیکی کی طرف بلاویں اور امر معروف اور نہی منکر کریں اور یہ نہیں کہا وما قال ولتكن منكم أُمّةٌ يقتلون الكفار ويدخلونهم جبرًا في دينهم۔ وقال کہ تم میں سے لوگ ہمیشہ ایسے ہوتے رہیں کہ جو کافرون کو قتل کریں اور ان کو اپنے دین میں جبراً داخل کرتے رہیں اور جَادِلُهم (أى جادل النصارى بالحكمة والموعظة الحسنة، وما قال اس نے یہ تو کہا کہ عیسائیوں سے حکمت اور نیک نصیحت کے طور پر بحث کرو اور یہ نہیں کہا کہ ان کو تلواروں سے قتل کر ڈالو۔ اقتلوهم بالسيوف والصوارم إلا بعد صدهم عن سبيل الله ومكرهم لإطفاء مگر اس حالت میں جبکہ وہ دین سے روکیں اور اسلام کا نور بجھانے کے لئے منصوبے برپا کریں اور دشمنوں نور الإسلام وقيامهم في مقام المعادين، فانظر ما قال ربنا ربّ العالمين۔ کے مقام میں کھڑے ہو جائیں پس دیکھ تو سہی ہمارے پروردگار نے جو تمام عالموں کا رب ہے کیسا کچھ فرمایا ہے۔ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ہے “ ہونا چاہیے۔ (ناشر) ال عمران : ۱۰۵