نورالحق حصہ اوّل — Page 33
روحانی خزائن جلد ۸ ۳۳ نور الحق الحصة الأولى بالأخلاق، وما زلت آخذةً نفسك بالرحم والإشفاق، ولا ترضى جن پر داغ عیب ہے اور رحم اور شفقت کو تو نے اپنے نفس کے لئے ایک خصلت لازمی ٹھہرا دی ہے اور ظلم کرنے والوں بجور الجائرين۔ کے ظلم پر راضی نہیں ۔ هذا خُلقكِ، ونحن - مع ظل حمايتك - نُلدَعُ مِن شَرِّ بعض (۲۳) یہ تیرا خلق ہے اور ہم باوجود ظل حمایت تیری کے بعض دشمنوں کے نیش شرارت سے نیش زدہ اور المعادين، ونُعَضُّ من أنياب العاضّين، ويصول علينا كلُّ ضُل بن ضُلَّ ان کاٹنے والوں کے دانتوں سے کاٹے جاتے ہیں اور ہر یک ایسا شخص ہم پر حملہ کرتا ہے جس کے باپ دادوں کو کوئی نہیں پہچانتا ويسُبُّ نبينا الكريم كل جهول مهين، ويسعى أن نُعدّ من الباغين۔ اور ہر ایک جاہل ذلیل ہمارے نبی کریم کی اہانت کر رہا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ ہم باغیوں سے گنے جائیں ۔ وأما تفصيل هذا المجمل فاعلم يا قيصرة۔ تزايد إقبالك اور اگر اس مجمل کی تفصیل چاہو تو اے قیصرہ تیرا اقبال زیادہ ہو اور خدا تیری وبارك الله في دنياك وأصلح مالك۔ أن رجلا من الذين ارتدوا من دنیا میں برکت دے اور تیرا انجام بھی بخیر کرے۔ تجھے معلوم ہو کہ ایک شخص نے ایسے لوگوں میں سے جو اسلام سے دين الإسلام ودخلوا في الملة النصرانية، أعنى النصراني الذي يُسمّى نکل کر عیسائی ہو گئے ہیں یعنی ایک عیسائی جو اپنے تئیں پادری عماد الدین کے نام سے نفسه القسيس عماد الدين، ألف كتابًا في هذه الأيام لِخَدْعِ العوام، وسماه موسوم کرتا ہے ایک کتاب ان دنوں میں عوام کو دکھو کہ دینے کے لئے تالیف کی ہے اور اس کا نام تو زین الاقوال توزين الأقوال، وذكر فيه بعض حالاتي بافتراء بحت لا أصل له، وقال إن رکھا ہے اور اس میں ایک خالص افترا کے طور پر میرے بعض حالات لکھے ہیں اور بیان کیا ہے کہ یہ شخص ایک هذا الرجل رجل مفسد ومن أهل العداوة، وإني وجدت في طريقة مشيه مفید آدمی اور گورنمنٹ کا دشمن ہے اور مجھے اس کے طریق چال چلن میں