نورالحق حصہ اوّل — Page 18
روحانی خزائن جلد ۸ ۱۸ نور الحق الحصة الأولى فما استيقظوا، وخضعنا أطوارًا فما خضعوا، فقلنا اخسأوا خسنًا: کے لئے جگایا پر وہ نہ اٹھے ہم کئی مرتبہ جھکے پر وہ نہ جھکے آخر ہم نے کہا دور ہو جاؤ دفع ہو جاؤ إن الله غنـى عـنـكـم ولا يعبأ بكم، وسيأتي بقوم ينصرون دينه خدا کو تمہاری کچھ بھی پرواہ نہیں اور وہ ایسی قوم لے آئے گا جو اس کے دین کے مددگار ہوں گے ويحبون الصادقين۔ اور صادقوں سے پیار کریں گے۔ فحاصل الكلام : إنى إذا رأيت هذه الأمراض والسموم سارية اب حاصل کلام یہ ہے کہ جب میں نے یہ بیماریاں اور یہ زہریں اس ملک کے في عروق أكثر علماء الهند، ورأيتهم فى غنية من كتاب الله ورسوله، اکثر مولویوں میں دیکھیں جو ان کی رگوں میں رچ چکی تھیں اور میں نے ان کو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول سے لا پرواہ پایا بل رأيتهم ضاربين بعود ومزمار آخر، وكلُّ أحد ۔ منهم زمار بما عنده بل میں نے دیکھا کہ وہ تو اور ہی بانسلی بجا رہے ہیں اور ہر ایک بانسلی بجانے والا من الخيالات الباطلة، وارتضى بمعازفه النفسانية متمسكا بها، ولا اپنے خیالات باطلہ کے طرز پر بجانے میں مشغول ہے اور ہر ایک شخص اپنے نفسانی آلات سرود لئے بیٹھا ہے يتوبون ولا يتندمون، بل أراهم يصرّون ويفخرون على جهلا تهم اور ان سے خوش ہے نہ تو بہ کرتے اور نہ پچھتاتے ہیں بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ وہ اپنے خیالات باطلہ پر اصرار کرتے اور ناز کرتے ويصفقون بالأيادى فرحين، ويكفّرون المؤمنين مجترئين كأنهم في ہیں اور خوشی سے تالیاں بجاتے ہیں اور بڑی دلیری سے مومنوں کو کافر ٹھہرا رہے ہیں ۔ گویا ان کو خدا تعالی کے مواخذہ مأمن من مؤاخذة الله ومحاسباته، وكأن الله لا يسأل عنهم ولا يقول سے بکلی امن ہے اور اس کے محاسبہ سے بے غم ہیں گویا خدا ان سے سوال نہیں کرے گا اور نہیں لم قفوتم ما لم يكن لكم به علم، ولا يُنبئهم بما في صدورهم کہے گا کہ تم کیوں ایسی بات کے پیچھے پڑے جس کا تمہیں قطعی اور یقینی علم نہیں تھا اور ان کے دلی ارادے ان پر ظاہر