نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 17

روحانی خزائن جلد ۸ ۱۷ نور الحق الحصة الأولى قد أضرت الإسلام إضرارًا عظيمًا، والناس باستماعها يخرجون من دين اسلام کو سخت نقصان پہنچا رہے ہیں اور لوگ ان کی باتوں کو سن کر دین اسلام سے نکلتے الله أفواجا ويلتحقون بالنصارى بما سمعوا من صفات المسيح وعصمته جاتے ہیں اور نصاریٰ میں داخل ہوتے جاتے ہیں کیونکہ وہ مسیح کی عصمت الخاصة وخلوده إلى هذا الوقت، وقدرته الكاملة في الخلق والإحياء على خاصہ اور اس کا اب تک زندہ رہنا اور اس کی قدرت کاملہ خالقیت میں اور زندہ کرنے میں قدر ما وُجد مثله في أحد من النبيين۔ ويشاهدون (هذه العلماء) هذه اس مبالغہ سے سنتے ہیں جس کی نظیر اور نبیوں میں نہیں پائی جاتی۔ اور یہ مولوی لوگ ان تمام فسادوں کو المفاسد كلها ثم لا يتنبهون، ولا يرتجف فؤادهم، ولا تذوب أكبادهم، دیکھ رہے ہیں پھر خبردار نہیں ہوتے اور ان کے دل نہیں کانپتے اور ان کے جگر نہیں پگھلتے اور ولا يأخذهم رحم ورقة على أمة النبي۔ ونبكي عليهم ونصرخ صرخة ان کو امت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ بھی رحم نہیں آتا ہم ان پر گریہ کرتے اور پھوٹ پھوٹ کر روتے ہیں متموجة، فلا يسمع أحد بكاء نا ولا صراخنا، بل يكفروننا مغتاظين۔ سو کوئی ہمارے گریہ کو نہیں سنتا اور نہ ہماری فریاد کو بلکہ وہ غصہ میں آ کر کافر کافر کہتے ہیں۔ وإنما مثلنا في هذه الأيام أيام غربة الإسلام كمثل خابط في اور ہماری مثل ان دنوں میں جو غربت اسلام کے دن ہیں اس مسافر کی طرح ہے جو جنگل میں واد في الليلة المظلمة، أو صارخ في اللظى المضرمة، فلا نجد مغينا (۱۳) اور اندھیری رات میں بہکتا پھرتا ہے یا اس کی مثل جو بھڑکتی ہوئی آگ میں فریاد کر رہا ہے سو ہم کوئی فریاد رس اپنی من قومنا إلا الواحد الذي هو رب العالمين۔ وإنا يئسنا منهم غاية اليأس قوم میں نہیں پاتے مگر وہی ایک جو رب العالمین ہے اور ہم ان لوگوں سے نہایت درجہ كأنا وضعناهم في قبورهم۔ قلنا مرارًا فما سمعوا، وأيقظنا إنذارًا ناامید ہو گئے گویا ہم نے ان کو ان کی قبروں میں دفن کر دیا ہم نے بہت کہا مگر انہوں نے نہیں سنا ہم نے خوف دلانے