نورالحق حصہ اوّل — Page 104
روحانی خزائن جلد ۸ اولد اور بیٹا نور الحق الحصة الأولى ہو ونجاة من نار أبدية التي أُعدّت لهم، فما نفعهم إبارته ولا كفارته، نجات ہو جو ان کے لئے تیار کیا گیا ہے سو جنوں کو اس کے مصلوب ہونے نے کچھ بھی فائدہ نہ پہنچایا حالانکہ وكانوا يؤمنون بالمسيح كما شهد عليه الإنجيل بالبيان الصريح، وہ اس پر ایمان لاتے تھے جیسا کہ اس پر انجیل گواہی دے رہی ہے پس گویا بیٹے نے اپنے اس فكأن الابن ما دعا تلك المذنبين إلى هذا القرى وتقاعس كبخيل کفارہ کی مہمانی کی طرف ان گناہ گاروں کو نہیں بلایا اور بخیلوں کی طرح (۷۸) وضنين۔ ومن المحتمل أن يكون للأب ابن آخر ، صُلب لتلك تاخیر کی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ باپ کا کوئی ہو جو جنوں کے لئے پھانسی دیا گیا المعشر، بل من الواجبات أن يكون كذلك لتنجية العصاة، فإنّ ابنا ہے کہ ایسے ہی ہو کیونکہ جب ایک بیٹا نوع انسان إذا صُلب لنوع الإنسان مع قلة العصيان، فكم من حرى أن يُصلب ابن کے لئے جو تھوڑے ہیں پھانسی دیا گیا پس کس قدر لائق ہے کہ ایک دوسرا بیٹا جنوں کے لئے پھانسی ملے جو آخر لنوع جنّى الذى ذنبهم أكبر وأكثر، وإلا فيلزم الترجيح بلا گناہ اور تعداد کے لحاظ سے بنی آدم سے بڑھے ہوئے ہیں ورنہ ترجیح بلا مرجح لازم آئے گی مرجح باليقين، ويثبت بخل الأب أو بخل البنين۔ ولا شك أن فكر اور باپ اور بیٹوں کا بخل ثابت ہوگا اور کچھ شک نہیں کہ ایک قوم کی مغفرت کا فکر مغفرة قوم عادين والتغافل من قوم آخرين، عدول صريح وظلم مبين، بلکہ تو واجبات سے سے اور بیجا کار روائی ہے بلکہ دوسری قوم تغافل صریح ظلم بل يثبت من هذا جهل الأب المنّان۔ أما كان يعلم أن المذنبين قومان، اس سے تو باپ کا جہل ثابت ہوتا ہے کیا اس کو معلوم نہیں تھا کہ گناہ گار لوگ دو قومیں ہیں ولا يكفي لهم صليب بل اشتدت الحاجة إلى أن يكون ابنان صرف ایک قوم تو نہیں سو دو قوموں کے لئے صرف ایک بیٹے کا پھانسی دینا کافی نہیں بلکہ کافی طور پر یہ مقصد