نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 103

روحانی خزائن جلد ۸ ۱۰۳ نور الحق الحصة الأولى ابنه لأجل خطايا الناس، فنجي المذنبين وأخذ المعصوم وعذبه | تا گناہ گاروں کو چھڑاوے اور گناہ گاروں کی طرح اس معصوم پر بأنواع البأس كالمذنبين۔ هذا ما قالوا ، ولكن العجب من الأب عذاب ہوا۔ یہ وہ باتیں ہیں جو عیسائی کہتے ہیں لیکن باپ سے تعجب ہے کہ وہ اپنے الذي كان نشوانًا أو فى السُّبات أنه نسي عند صليب ابنه ما كتب بیٹے کو پھانسی دینے کے وقت اپنے اس قول کو بھول گیا جو توریت میں کہا تھا کہ میں اسی کو في التوراة وقال لا أُهْلِكُ إِلَّا إلا الذي عصاني، ولا خذ أحدًا مكان ہلاک کروں گا جو میرا گناہ کرے اور میں ایک کی جگہ دوسرے کو نہیں پکڑوں گا سو اس نے أحد من العصاة، فنكث العهد وأخلف الوعد، وترك العاصين | وعده عہد کو توڑا اور کے خلاف کیا اور گناہ گاروں کو چھوڑ دیا اور وأخذ أحدًا من المعصومين۔ لعله ذهل قوله السابق من كبر السن ایسے آدمی کو پکڑا جس پر کوئی گناہ نہیں تھا۔ شاید وہ اپنا پہلا قول بباعث بڑھاپے وأرذل العمر وكان من المعمرين۔ اور پیرانہ سالی کے بھول گیا کیونکہ معمر تھا ۔ والعجب من الابن أنه كان يعلم أن معشر الجن سَبَقَ الإنس اور بیٹے سے یہ تعجب ہے کہ وہ خوب جانتا تھا کہ جنوں کا گروہ آدمیوں سے في الخطأ ولا ينتهجون محجّة الاهتداء ، بل تجاوزوا الحد في شباء ة گناہ میں بڑھ گیا ہے اور وہ سیدھا راستہ اختیار نہیں کرتے بلکہ بے راہی کی تیزی میں حد سے زیادہ بڑھ الاعتداء ، ثم تغافل من أمر سياتهم، وما توجّه إلى مواساتهم، وما شاء گئے ہیں پھر اس نے ان کے بارے میں تغافل کیا اور ان کی ہمدردی کے لئے کچھ توجہ نہ کی أن ينتفع الجن من كفارته، ويكون لهم حياة من إبــارتـه اور نہ چاہا کہ اُس کے کفارہ سے جن کا گروہ فائدہ اٹھاوے اور ان کو اس ابدی عذاب سے سهو والصحيح ” آخذ “۔ (الناشر)