نورالقرآن نمبر 1

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 165 of 581

نورالقرآن نمبر 1 — Page 165

روحانی خزائن جلد ۹ ۱۶۵ منن الرحمن قلوب فسدت و انظار زاغت و عقول فالت و آراء مالت ہوا جو بگڑ گئے اور ان نظروں پر دل دُکھا جو ٹیڑھی ہوگئیں اور ان عقلوں پر جو ضعیف ہوگئیں اور ان راہوں پر جو - و اهواء صالت و اوباء شاعت من افساد المفسدين ناراستی کی طرف جھک گئیں اور ان نفسانی خواہشوں پر جنہوں نے حملہ کیا اور ان وباؤں پر جو مفسدوں کے فساد سے پھیل گئیں و رأيت ان الناس اكبو على الدنيا وزينتها فلا يصغون الى اور میں نے دیکھا کہ لوگ دنیا اور اس کی زینت پر گرے ہوئے ہیں اور مذہب حق اور اس کے دلائل الملة وادلتها ولا ينظرون الى نضارها ونضرتها و يعرضون كانهم کی طرف توجہ نہیں کرتے اور اس کی زر خالص اور تازگی کو نہیں دیکھتے اور اس طرح کنارہ کرتے ہیں کہ گویا مــرتــابــون و ليسوا بــمــرتابين۔ ولكنهم آثروا الدنيا على الدين۔ لا يقبلون شک میں ہیں اور وہ دراصل شک میں نہیں بلکہ انہوں نے دنیا کو دین پر اختیار کر لیا ہے اپنی نابینائی کی لعميهِم دقائق العرفان ولا يرون علاء البراهين۔ و كيف و انهم وجہ سے معرفت کی باریک باتوں کو قبول نہیں کرتے اور براہین کے اونچے مقام کو دیکھ نہیں سکتے ۔ اور کیونکر دیکھیں يؤثرون سبل الشيطان ويصرون على التكذيب والعدوان۔ انہوں نے تو شیطان کی راہیں اختیار کر رکھی ہیں اور ظلم اور تکذیب پر اصرار کر رہے ہیں ولا يسلكون محجة الصادقين فطفقت ادعو الله ليؤتيني حجة تفحم اور صادقوں کی راہوں پر چلنا نہیں چاہتے ۔ سو میں نے جناب الہی میں اس غرض سے دعا کرنا شروع کیا تا کہ وہ مجھے ایسی حجت كفرة هذا الزمان و تناسب طبائع الحدثان لأبكت سفهائهم عنایت کرے جو اس زمانہ کے کافروں کو لاجواب کر دیوے اور جو اس زمانہ کے نوجوانوں کی طبائع کے مناسب حال ہوتا کہ میں ان کے و عقلاء هم باحسن البيان وتتم الحجة على المجرمين۔ فاستجاب ۲۲ کم عقلوں اور عقلمندوں کو ایک عمدہ بیان کے ساتھ ملزم کروں اور تا کہ مجرموں پر حجت پوری ہو۔ پس میرے رب نے میری دعا کو ربی دعوتی و حقق لي منيتي وفتح على بابها كما كانت مسئلتي قبول کیا اور میری آرزو کو میرے لئے موجود کر دیا اور میرے پر میری آرزو کا دروازہ ایسے طور پر کھول دیا جو