نشانِ آسمانی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 472 of 598

نشانِ آسمانی — Page 472

روحانی خزائن جلد ۴ ۴۷۲ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات به یقین کامل سمجھ لیوے گا کہ یہ تبدیلی ایک خارق عادت تبدیلی ہے جسے معجزہ کہنا چاہئے ۔ پھر تیسرا معجزہ قرآن شریف کا جو ہماری نظروں کے سامنے موجود ہے اس کے حقائق و معارف و لطائف ونکات ہیں جو اس کی بلیغ و فصیح عبارات میں بھرے ہوئے ہیں اس معجزہ کو قرآن شریف میں بڑی شد و مد سے بیان کیا گیا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر تمام جن وانس اکٹھے ہو کر اس کی نظیر بنانا چاہیں تو اُن کے لئے ممکن نہیں یہ معجزہ اس دلیل سے ثابت اور متحقق الوجود ہے کہ اس زمانہ تک کہ تیرہ سو برس سے زیادہ گزر رہا ہے با وجود یکه قرآن شریف کی منادی دنیا کے ہر ایک نواح میں ہو رہی ہے اور بڑے زور سے هَلْ مِنْ مُعَارِض کا نقارہ بجایا جاتا ہے مگر کبھی کسی طرف سے آواز نہیں آئی ۔ پس اس ۲۲ سے اس بات کا صریح ثبوت ملتا ہے کہ تمام انسانی قوتیں قرآن شریف کے مقابلہ و معارضہ سے عاجز ہیں بلکہ اگر قرآن شریف کی صدہا خوبیوں میں سے صرف ایک خوبی کو پیش کر کے اس کی نظیر مانگی جائے تو انسان ضعیف البنیان سے یہ بھی ناممکن ہے کہ اس ایک جزو کی نظیر پیش کر سکے مثلاً قرآن شریف کی خوبیوں میں سے ایک یہ بھی خوبی ہے کہ وہ تمام معارف دینیہ پر مشتمل ہے اور کوئی دینی سچائی جو حق اور حکمت سے تعلق رکھتی ہے، ایسی نہیں جو قرآن شریف میں پائی نہ جاتی ہو مگر ایسا شخص کون ہے کہ کوئی دوسری کتاب ایسی دکھلائے جس میں یہ صفت موجود ہو اور اگر کسی کو اس بات میں شک ہو کہ قرآن شریف جامع تمام حقائق دینیہ ہے تو ایسا مشکلک خواہ عیسائی ہو خواہ آریہ اور خواہ برہمو ہو، خواہ دہر یہ اپنی طرز اور طور پر امتحان کر کے اپنی تسلی کر سکتا ہے اور ہم تسلی کر دینے کے ذمہ دار ہیں ۔ بشرطیکہ کوئی طالب حق ہماری طرف رجوع کرے۔ بائیبل میں جس قدر پاک صداقتیں ہیں یا حکماء کی کتابوں میں جس قد رحق اور حکمت کی باتیں ہیں جن پر ہماری نظر پڑی ہے یا ہندوؤں کے