نشانِ آسمانی — Page 471
روحانی خزائن جلد ۴ ۴۷۱ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات اور طاقت کے ساتھ اس کا ظہور ہوا تو اس پیشگوئی کو یقینی اور قطعی طور پر چشم دید معجزہ قرار دے گا جس میں اس کو ایک ذرہ بھی شک و شبہ نہیں ہوگا۔ پھر دوسرا معجزہ قرآن شریف کا جو ہمارے لئے حکم مشہود ومحسوس کا رکھتا ہے وہ عجیب وغریب تبدیلیاں ہیں جو اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ببرکت پیروی قرآن شریف و اثر صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ظہور میں آئیں ۔ جب ہم اس بات کو دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ مشرف باسلام ہونے سے پہلے کیسے اور کس طریق اور عادت کے آدمی تھے اور پھر بعد شرف صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم و اتباع قرآن شریف کس رنگ میں آگئے اور کیسے اخلاق میں ، عقائد میں ، چلن میں ، گفتار میں ، رفتار میں ، کردار میں اور اپنی جمیع عادات میں خبیث حالت سے متع سے منتقل ہو کر نہایت طبیب اور پاک حالت میں داخل کئے گئے تو ہمیں اس تاثیر عظیم کو دیکھ کر جس نے ان کے زنگ خوردہ وجودوں کو ایک عجیب تازگی اور روشنی اور چمک بخش دی تھی اقرار کرنا پڑتا ہے کہ یہ تصرف ایک خارقِ عادت تصرف تھا جو خاص خدائے تعالیٰ کے ہاتھ نے کیا۔ قرآن شریف میں خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے ان کو مردہ پایا اور زندہ کیا اور جہنم کے گڑھے میں گرتے دیکھا تو اُس ہولناک حالت سے چھڑایا۔ بیمار پایا اور اُنہیں اچھا کیا۔ اندھیرے میں پایا انہیں روشنی بخشی ۔ اور خدائے تعالیٰ نے اس اعجاز کے دکھلانے کے لئے قرآن شریف میں ایک طرف عرب کے لوگوں کی وہ خراب حالتیں لکھی ہیں جو اسلام سے پہلے وہ رکھتے تھے اور دوسری طرف ان کے وہ پاک حالات بیان فرمائے ہیں کہ اسلام لانے کے بعد ان میں پیدا ہو گئے تھے کہ تا جو شخص ان پہلے حالات کو دیکھے جو کفر کے زمانہ میں تھے اور پھر مقابل اس کے وہ حالت پڑھے جو اسلام لانے کے بعد ظہور پذیر ہوگئی تو ان دونوں طور کے سوانح پر مطلع ہونے سے