نشانِ آسمانی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 452 of 598

نشانِ آسمانی — Page 452

روحانی خزائن جلد ۴ ۴۵۲ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ہرگز ثابت نہیں ہوتا بلکہ برخلاف اس کے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور ایسے معجزات ظہور پذیر ہوتے رہے ہیں کہ جو ایک صادق و کامل نبی سے ہونے چاہئیں۔ چنانچہ تصریح اس کی نیچے کے بیانات سے بخوبی ہو جائے گی ۔ پہلی آیت جس کا ترجمہ معترض نے اپنے دعوی کی تائید کیلئے عبارات متعلقہ سے کاٹ کر پیش کر دیا ہے مع اس ساتھ کی دوسری آیتوں کے جن سے مطلب کھلتا ہے، یہ ہے۔ وَقَالُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ أَيْتُ مِنْ رَّبِّهِ قُلْ إِنَّمَا الْآيَتُ عِنْدَ اللَّهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرُ مُّبِينٌ أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ يُتْلَى عَلَيْهِمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَى لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ۔ وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَوْلَا أَجَلٌ سے مُّسَمًّى لَجَاءَهُمُ الْعَذَابُ وَلَيَأْتِيَنَّهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ یعنی کہتے ہیں کیوں نہ اتریں اس پر نشانیاں کہ وہ نشانیاں ( جو تم مانگتے ہو یعنی عذاب کی نشانیاں ) وہ تو خدائے تعالیٰ کے پاس اور خاص اس کے اختیار میں ہیں اور میں تو صرف ڈرانے والا ہوں ۔ یعنی میرا کام فقط یہ ہے کہ عذاب کے دن سے ڈراؤں نہ یہ کہ اپنی طرف عذاب نازل کروں اور پھر فرمایا کہ کیا ان لوگوں کیلئے ( جو اپنے پر کوئی عذاب کی نشانی وارد کرانی چاہتے ہیں ) یہ رحمت کی نشانی کافی نہیں جو ہم نے تجھ پر (اے رسول اُمی ) وہ کتاب ( جو جامع کمالات ہے ) نازل کی جو اُن پر پڑھی جاتی ہے یعنی قرآن شریف جو ایک رحمت کا نشان ہے۔ جس سے درحقیقت وہی مطلب نکلتا ہے جو کفار عذاب کے نشانوں سے پورا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ کفار مکہ اس غرض سے عذاب کا نشان مانگتے تھے کہ تا وہ ان پر وارد ہو کر انہیں حق الیقین تک پہنچادے۔ صرف دیکھنے کی چیز نہ رہے کیونکہ مجرد رؤیت کے نشانوں میں ان کو دھو کے کا احتمال تھا اور چشم بندی وغیرہ کا خیال سواس ل العنكبوت: ۵۲۵۱ العنكبوت: ۵۴