نشانِ آسمانی — Page 451
روحانی خزائن جلد ۴ ۴۵۱ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَكُونُ مِنَ المُسْلِمِينَ الْمُخْلِصِينَ ۔ واضح رہے کہ انجیلوں میں حضرت مسیح کے بعض اقوال ایسے بیان کئے ۔ کئے گئے ہیں جن پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح اپنی عمر کے آخری دنوں میں اپنی نبوت اور اپنے موید من اللہ ہونے کی نسبت کچھ شبہات میں پڑ گئے تھے جیسا کہ یہ کلمہ کہ گویا آخری دم کا کلمہ تھا یعنی ایلی ایلی لما سبقتنی جس کے معنی یہ ہیں کہ اے میرے خدا، اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ عین دنیا سے رخصت ہونے کے وقت میں کہ جو اہل اللہ کے یقین اور ایمان کے انوار ظاہر ہونے کا وقت ہوتا ہے آنجناب کے منہ سے نکل گیا۔ پھر آپ کا یہ بھی طریق تھا کہ دشمنوں کے بدا رادہ کا احساس کر کے اُس جگہ سے بھاگ جایا کرتے تھے حالانکہ خدائے تعالیٰ سے محفوظ رہنے کا وعدہ پا چکے تھے۔ ان دونوں امور سے شک اور تخیر ظاہر ہے پھر آپ کا تمام رات رو رو کر ایسے امر کے لئے دعا کرنا جس کا انجام بد آپ کو پہلے سے معلوم تھا بجز اس کے کیا معنی رکھتا ہے کہ ہر ایک بات میں آپ کو شک ہی شک تھا۔ یہ باتیں صرف عیسائیوں کے اس اعتراض اٹھانے کی غرض سے لکھی گئی ہیں ورنہ ان سوالات کا جواب ہم تو احسن طریق سے دے سکتے ہیں اور اپنے پیارے مسیح کے سر سے جو بشری ناتوانیوں اور ضعفوں سے مستثنیٰ نہیں تھے ان تمام الزامات کو صرف ایک نفی الوہیت و ابنیت سے ایک طرفہ العین میں اُٹھا سکتے ہیں مگر ہمارے عیسائی بھائیوں کو بہت دقت پیش آئے گی۔ دوسرے سوال کا جواب پوشیدہ نہ رہے کہ ان دونوں آیتوں سے معترض کا مدعا جو استدلال بر نفی معجزات ہے، یہ شبہات چاروں انجیلوں سے پیدا ہوتے ہیں خاص کر انجیل متی تو اول درجہ کی شبہ اندازی میں ہے۔