نشانِ آسمانی — Page 396
روحانی خزائن جلد ۴ ظلمت ظلم ظالمان دیار ۳۹۶ نشان آسمانی بیحد و بے شمار می بینم یعنی ملکوں میں ظلم کا اندھیرا انتہا کو پہنچ جائے گا حاکم رعیت پر اور ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ پر اور شریک شریک پر ظلم کرے گا اور ایسے لوگ کم ہوں گے جو عدل پر قائم رہیں ۔ جنگ و آشوب و فتنه و بیداد درمیان و کنار می بینم یعنی ہندوستان کے درمیان میں اور اسکے کناروں میں بڑے بڑے فتنے اٹھیں گے اور جنگ ہوگا اور ظلم ہوگا۔ بنده را خواجه وش همی یا بم خواجه را بنده وار می بینم یعنی ایسے انقلاب ظہور میں آئیں گے کہ خواجہ بندہ اور بندہ خواجہ ہو جائے گا۔ یعنی امیر سے فقیر اور فقیر سے امیر بن جائے گا۔ سلم نو زنند بر رخ زر در همش کم عیار می بینم یعنی ہندوستان کی پہلی بادشاہی جاتی رہے گی اور نیا سکہ چلے گا جو کم عیار ہوگا اور یہ سب کچھ تیرھویں صدی میں سلسلہ وار ظہور میں آجائے گا۔ بعض اشجار بوستان جهان بے بہار و ثمار می بینم یعنی قحط پڑیں گے اور باغات کو پھل نہیں لگیں گے۔ غم مخور زانکه من دریں تشویش خرمی وصل یار می بینم