نشانِ آسمانی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 395 of 598

نشانِ آسمانی — Page 395

روحانی خزائن جلد ۴ ۳۹۵ نشان آسمانی جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں سید صاحب نے چودھویں صدی کا زمانہ نہیں پایا۔ اب چند اشعار نعمت اللہ ولی کے جو مہدی ہند کے متعلق ہیں معہ شرح ذیل میں لکھے جاتے ہیں ۔ ابیات قدرت کردگار می بینم حالت روزگار می بینم از نجوم این سخن نمی گویم بلکه از کردگار می بینم یعنی جو کچھ میں ان ابیات میں لکھوں گا وہ منجما نہ خبر نہیں بلکہ الہامی طور پر مجھ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہوا ہے ۔ ۱۲۰۰ غین و رے سال چون گذشت از سال بوالعجب کاروبار می بینم یعنی بارہ سو سال کے گذرتے ہی عجیب عجیب کام مجھ کو نظر آتے ہیں مطلب یہ کہ تیرھویں صدی کے شروع ہوتے ہی ایک انقلاب دنیا میں آئے گا اور تعجب انگیز باتیں ظہور میں آئیں گی اور ہجرت کے باراں سو سال گزرنے کے ساتھ ہی میں دیکھتا ہوں کہ بوالعجب کام ظاہر ہونے شروع ہو جائیں گے۔ گر در آئینه ضمیر جهان گرد و زنگ و غبار می بینم یعنی تیرھویں صدی میں دنیا سے صلاح و تقویٰ اٹھ جائے گی فتنوں کی گرد اٹھے گی گناہوں کا زنگ ترقی کرے گا اور کینوں کے غبار ہر طرف پھیلیں گے یعنی عام عداوتیں پھیل جائیں گی تفرقہ اور عناد بڑھ جائے گا اور محبت اور ہمدردی اٹھ جائے گی ۔ مگر ان باتوں کو دیکھ کر غم نہیں کرنا چاہئے ۔