نسیمِ دعوت — Page 150
۳۹ روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۵۰ اعجاز احمدی ضمیمه نزول المسیح اب میں اپنے خدائے قدیر و کریم وقد وس و غیور پر توکل کر کے قصیدہ کو لکھتا ہوں اور اپنے موید اور محسن سے مدد چاہتا ہوں اے میرے پیارے قادر اور دلوں کے اسرار کے گواہ میری مدد کر اور ایسا کر کہ یہ تیرا نشان دنیا میں چمکے اور کوئی مخالف میعاد مقررہ میں اس کی نظیر بنانے میں قادر نہ ہواے میرے پیارے ایسا ہی کر اور بہتوں کو اس نشان اور اس تمام مضمون سے ہدایت دے ۔ آمین ثم آمین اور وہ قصیدہ یہ ہے۔ الْقَصِيدَةُ الْإِعْجَازِيَّةُ ا يَا أَرْضَ مُةٍ قَدْ دَفَاكِ مُدَمَّرُ وَارْدَاكِ ضِلِّيلٌ وَ أَغْرَاكِ مُوغِرُ اے مد کی زمین! ایک ہلاک شدہ نے تیری خستگی کی حالت میں تجھے ہلاک کیا۔ اور سخت گمراہ کرنے والے نے تجھے مارا اور ایک غصہ دلانے والے نے تجھے برانگیختہ کیا دَعَوْتِ كَذُوبًا مُّفْسِدًا صَيْدِيَ الَّذِي كَحُوتِ غَدِيْرٍ أَخُذُهُ لَا يُعَدَّرُ تو نے ایک جھوٹے مفسد میرے شکار کو بلا لیا۔ جس کا پکڑ نا ڈھاب کی مچھلی کی طرح بڑا کام نہیں وَجَاءَكِ صَحْبِى نَاصِحِينَ كَاخْوَةٍ يَقُولُونَ لَا تَبْغُوا هَوَى وَ تَصَبَّرُوا اور میرے دوست تیرے پاس آئے جو بھائیوں کی طرح نصیحت کرتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ ہواؤ ہوس کی طرف میل مت کرو اور صبر کرو فَظَلَّ أُسَارَى كُمُ اسَارَى تَعَصُّبٍ يُرِيدُونَ مَنْ يَعْوِي كَذِنُبٍ وَ يَخْتِرُ پس تم میں سے وہ لوگ جو تعصب کے قیدی تھے۔ انہوں نے چاہا کہ ایسا شخص تلاش کریں جو بھیڑیے کی طرح چھینے اور فریب کرے مد عربی علم ہے مجھی نہیں۔ مسلمان جن جن ملکوں میں گئے اور جو جو انہوں نے نام رکھے وہ اکثر عربی تھے۔ منہ دفو کے معنی ہیں خستہ کو کشتہ کرنا ۔ سو مد کے لوگ اپنے اوہام کی وجہ سے پہلے ہی خستہ تھے ثناء اللہ نے جا کر اور جھوٹ بول کر ان کو کشتہ کر دیا اور وہ خود مدمر تھا یعنی ہمارے آگے ہلاک شدہ تھا۔ سو ہلاک شدہ نے ان نادانوں کو ہلاک کر دیا ۔ منہ لے ایڈیشن اول میں اس قصیدہ پر اعراب نہیں دئے گئے سوائے چند ایک مقامات کے اب قارئین کی سہولت کے لئے یہ اعراب دیئے جا رہے ہیں۔ (ناشر)