نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 550

نجم الہدیٰ — Page 73

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۷۳ نجم الهدى إلى أن يرين هوى التنصر علی یہاں تک کہ ان پر بھی نصرانیت کی خواہش غالب قلوبهم، ويسفى هواء الطمع نور آجاتی ہے اور طمع کی ہوا ان کے دلوں کے نور کو لبوبهم، فيُوَطِّنُون نفوسهم على اڑا کر لے جاتی ہے۔ پس مرتد ہونا دل میں ٹھان الارتداد ويضربون عليه جروتهم لیتے ہیں اور دل کو اس پر بوجہ خباثت مواد پختہ کر لخبث المواد، ثم يرتدون قائلین لیتے ہیں پھر یہ کہتے ہوئے مرتد ہو جاتے ہیں کہ بأنهم كانوا طلاب الحق والسداد۔ وہ سچائی کے متلاشی تھے اور اس بد مذہبی کی گرم والأصل في ذالك أن أكثر الناس بازاری کا اصل سبب یہ ہے کہ اکثر لوگ اس زمانہ في هذا الزمان قد تمايلوا على الدنیا میں دنیا کی طرف جھک گئے ہیں اور خدا تعالیٰ کا وقلت معرفة الله الديان، وقل خوفه خوف کم ہو گیا اور دل میں اس کی محبت باقی نہ ولم تبق محبّته في الجنان۔ فلما رأوا رہی ۔ پس جب کہ ان لوگوں نے دنیا کی زینت کو زخرف الدنيا في أيدى القسوس پادریوں کے ہاتھ میں دیکھا تو اپنے دلوں کی مالوا إليهـم برغبة النفوس، فلأجل رغبت سے ان کی طرف مائل ہو گئے سواسی لئے ذالك يدخلون فى ظلماتهم أفواجًا، ہزار ہا لوگ ان کی تاریکی میں داخل ہو رہے ہیں ہوائی تنصر در دل انها جا گیرد و باد آز نورخردانها را ر باید ۔ آخر بر ارتداد آماده شوند و بسبب خبث ماده دل را برای نیست استوار کنند و باز چوں مرتد شوند - گویند ما طالبان راستی بودیم - اصل این فساد آنکه اکثری در این زمانہ ہمہ تن روی بدنیا شده و خوف خدا و شناخت وی نمانده و محبت وی از دلها دور شدہ ۔ پس ہر گاہ امثال ایں کساں زینت دنیا در دست کشیشان دیدند با هزار جان بسوئی انہا دویدند ۔ ازیں جهت است که فوج فوج مردم در اندرون تاریکی انہا جائے می جویند و پشت