نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 550

نجم الہدیٰ — Page 74

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۷۴ نجم الهدى ويتركون سراجًا وهاجًا ۔ ولا تنفع اور چراغ روشن کو چھوڑتے جاتے ہیں ۔ سوان المباحثة الخالية عن الخوارق عند آفتوں کے وقت میں صرف مباحثہ جو خوارق هذه الآفات، فإن الدنيا صارت لهم سے خالی ہو کچھ فائدہ نہیں دیتا کیونکہ ایسے لوگوں منتهى الــمــآرب وملأ الفساد فی کا اصل مقصود دنیا ہے اور نیتوں میں فساد بھرا ہوا النيات۔ فحينئذ اشتدت الحاجة إلى ہے اور اس وقت ایمان کے تازہ کرنے کے لئے تجديد الإيمان بالآيات۔ وطالما نشانوں کی حاجت ہے اور بہت مدت تک أيقظهم العالمون فتنا عسوا عالموں نے ان کو جگایا پس وہ بتكلف سوئے وجذبهم الواعظون فتقاعسوا رہے اور وعظ کرنے والوں نے ان کو اپنی ومـــا نـفـعتهم البراهين العقلية طرف کھینچا پس وہ پیچھے ہٹ گئے اور ان کو نہ ولا النصوص النقلية۔ وزادوا براهين عقلیہ نے نفع دیا اور نہ نصوص نقلیہ نے طغيانا واعتسافا، وتركوا عدلا اور تجاوز اور تعصب میں بڑھ گئے اور عدل اور ۱۳ وانصافا۔ فالسر فيه أن القلوب | انصاف کو چھوڑ دیا۔ اور اس میں بھید یہ ہے کہ ۱۳ قد عمت، والعقول قد كدرت دل اندھے ہو گئے اور عقلیں مکدر ہو گئیں ۔ بر چراغ روشن می کنند ۔ در هنگام چنیں آفات مباحثاتی که از خوارق عادات و نشانہائے آسمانی مجرد باشد سودی نمی بخشد - چه اصل غرض ہمچو مردم دنیائی دنی و فساد در دل انها مخفی است لہذا امروز برائے تجدید ایمان احتیاج به نشانہائی آسمانی است ۔ علماء تا زمانی دراز در پئے بیدار کردن انها بودند ولی از خواب بر نیامدند و واعظان بسوئی خودشاں کشیدند ولی پس نشستند ۔ براہین عقلیہ بانہا سودے نہ بخشید و نصوص نقلیه پنبہ غفلت از گوش انها برون نه کشید بل بر تعصب و اصرار وضد و انکار انها بیفزود بسبب ایں کہ