نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 67 of 550

نجم الہدیٰ — Page 67

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۶۷ نجم الهدى بيوت الشرفاء۔ فالغرض أنهم زرعوا الى غرض کے لئے شریفوں کے گھروں المكائد من جميع الأنحاء ، میں بھیجیں ۔ پس حاصل کلام یہ کہ انہوں نے ہر وانتشروا كالجراد في هذه الأكناف ایک طور سے مکر کا بیج بویا اور ٹڈی کی طرح ان اطراف میں منتشر ہو گئے اور ہر ایک کو جو ہدایت والأرجاء ، وقلوا كل من أحيا معالم کے نشانوں کو زندہ کرتا تھا دشمن پکڑا اور ہمارے الهدى، وجعلوا بلادنا دار البلاء ملک کو بلا اور موت کی جگہ بنا دیا اور ان کے والردى۔ وملتهم الباطلة أحرقت تذهب باطل نے ہمارے ملک کی نیکیوں کو مجالس ديارنا وأكلتها، وما بقى دار دور کر دیا اور کوئی گھر ایسا نہ رہا جس میں یہ إلا دخلتها، ولم يجد أهلها العوام نذهب باطل داخل نہ ہو اور اس ملک کے للدفاع استطاعة، ولا للفرار حيلة، باشندے جو اکثر عوام میں ہیں مقابلہ کی تاب نہ لا سکے اور نہ گریز کے لئے کوئی حیلہ ملا پس فصبّت مصائب على الإسلام | اسلام پر وہ مصیبتیں پڑیں جن کی نظیر پہلے زمانوں مــا مــضــى مثلها في سابق الأيام میں نہیں ہے ۔ پس وہ اس شہر کی طرح ہو گیا جو فنراه كبلدة خاوية على العروش مسمار ہو جائے اور اس جنگل کی طرح جو وحشیوں وفلاة مملوة من الوحوش، وإن بلادنا سے بھر جائے اور اب ہمارا ملک وہ ملک ہے الآن بلاد انزعج أهلها، و جس کے باشندے جڑ سے اکھاڑے گئے از دانهائی مکیدت و خدیعت درخرمن دارند انپاشته اند وچوں مورد ملخ در ہر چہار سوئے بلاد ما پرا گنده شده اند و خیلی دشمن دارند شخصی را که دین حق را زنده کند ۔ وشہر ہائے مارا ما وائی بلا و آفات ساخته اند - دیانه باطله انها بنیاد هر گونه نیکی را از پا در آورده و خانه نمانده که این زور پر شرور در آں داخل نشدہ ۔ اہائی ایس بلاد که از عامه ناس می باشند در خود با تاب و توان مقاومه با انها ندیدند و نه راه گزیر و خلاص فهمیدند - لا جرم بر اسلام مصیبت ہا نزول آورد کہ زمانہ ہائے پیشین نظیر آن موجود نداشته اند ۔ واسلام چون شہری گردید که زیروز بر و بکلی مسمار بشود یا چون صحرائی شده که مسکن درو دام بگردد ۔ اکنون ساکنان بلاد ما کسانی می باشند که از پیج بر کندیده