منن الرحمٰن — Page 446
روحانی خزائن جلد ۹ نور القرآن نمبر ۲ اعتراض پنجم محمد صاحب کی ایک غیر عورت پر نظر پڑی ۔ تو آپ نے گھر میں آ کر اپنی بیوی سودہ سے خلوت کی پس جو شخص غیر عورت کو دیکھ کر اپنے نفس پر غالب نہیں آ سکتا ۔ جب تک اپنی عورت سے خلوت نہ کرے اور اپنے نفس کی حرص کو پورا نہ کرے تو وہ اکمل کیونکر ہو سکتا ہے۔ فرد اقول میں کہتا ہوں کہ جس حدیث کے معترض نے الٹے معنے سمجھ لئے ہیں وہ صحیح مسلم میں ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں۔ عن جابر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى امرأة فاتي امرأته زينب وهى تمعس منيّة لها فقضى حاجته ۔ اس حدیث میں سودہ کا کہیں ذکر نہیں اور معنے حدیث کے یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا۔ پھر اپنی بیوی زینب کے پاس آئے اور وہ چمڑہ کو مالش کر رہی تھی ۔ سو آ نحضرت نے اپنی حاجت پوری کی ۔ اب دیکھو کہ حدیث میں اس بات کا نام و نشان نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس عورت کا حسن و جمال پسند آیا بلکہ یہ بھی ذکر نہیں کہ وہ عورت جوان تھی یا بڑھی تھی اور یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ آنحضرت نے اپنی بیوی سے آ کر صحبت کی ۔ الفاظ حدیث صرف اس قدر ہیں کہ اس سے اپنی حاجت کو پورا کیا اور لفظ قَضَی حَاجَتَه، لغت عرب میں مباشرت سے خاص نہیں ہے ۔ قضاء حاجت پاخانہ پھرنے کو بھی کہتے ہیں اور کئی معنوں کے لئے مستعمل ہوتا ہے۔ یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی سے صحبت کی تھی ۔ ایک عام لفظ کو کسی خاص معنی میں محدود کرنا صریح شرارت ہے۔ علاوہ اس کے